Live Updates

نئی دہلی میں برکس اجلاس میں رکن ممالک کے اختلافات نمایاں، مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونا بھارت کی قیادت کی بڑی ناکامی

جمعرات 30 اپریل 2026 22:36

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 اپریل2026ء) بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں برکس پلس ممالک کے حالیہ اجلاس میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر شدید اختلافات سامنے آئے۔کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا ، جسے مبصرین بھارت کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑادھچکا قرار دے رہے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دلی میں برکس نائب وزرائے خارجہ کا اجلاس خطے کے اہم مسائل پر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔

یہ اجلاس مکمل طور پر انتشار کا شکار ہوگیااوررکن ممالک کے درمیان شدید اختلافات کے باعث کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں کیا جاسکا۔جس سے بھارت کی قیادت کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔اطلاعات کے مطابق اجلاس کے دوران اسرائیل-فلسطین جنگ، غزہ کی سنگین انسانی صورتحال، ایران سے متعلق امور اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی پر مختلف موقف سامنے آئے۔

(جاری ہے)

اجلاس کے دوران فلسطین پر اسرائیلی جارحیت ، غزہ میں انسانی امداد، لبنان میں جنگ بندی، اقوام متحدہ کے امن مشن اور مشرق وسطی کے دیگر تنازعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم رکن ممالک کے درمیان اختلافات کے باعث کسی مشترکہ اعلامیے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ بعض ممالک نے سخت موقف اپنانے کی حمایت کی جبکہ دیگر نے محتاط اور متوازن حکمت عملی پر زور دیا۔

اسی طرح مقامی کرنسیوں میں تجارت اور ممکنہ مشترکہ کرنسی جیسے معاملات پر بھی مختلف آرا سامنے آئیں ۔بھارت نے برکس ممالک کی اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ امریکی ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں تجارت کی جائے۔ بھارت کا اسرائیل کے حق میں موقف، خاص طور پر غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کو نرم کرنے کی کوشش کی ،روس، چین اور ایران جیسے اہم ارکان نے شدید مخالفت کی ۔

ایران نے بھارت سے زیادہ سخت مغربی مخالف موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا، جسے نظرانداز کر دیا گیا۔مبصرین کے مطابق بھارت کا اسرائیل کے حق میں موقف اور فلسطینیوں کو نظرانداز کرنا مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی بڑی وجہ ہے۔ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان شدید اختلافات نے اجلاس میں بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ایران نے اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت پر زوردیا جبکہ یو اے ای اور دوسرے خلیجی ممالک نے شدید ردعمل سے گریز کیا ۔

بھارت کا غیر جانبدارنہ موقف ان اختلافات کو ختم کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔تجزیہ کاروں کے مطابق برکس اجلاس کے دوران بھارتی قیادت کی سفارتی کمزوری اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ غیر ہم آہنگی بے نقاب ہوتی ہے۔ اتفاق رائے کی کمی اوربھارت کا غیر جانبدار، اسرائیل نواز موقف کی وجہ سے گروپ تقسیم ہوگیا، جس سے برکس میں بھارت کی حیثیت اور اثر و رسوخ مزید کمزور ہواہے۔برکس کے اختتام کے بعد کوئی بھی رکن ملک بھارت کی کارکردگی اور موقف سے بالکل بھی خوش نہیں ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات