اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 مئی 2026ء) اپنے چار سالہ بچے کے پاس بیٹھی ہوئی ڈاکٹر ثانیہ جعفری کراچی میں اپنے گھر سے لیپ ٹاپ کے ذریعے پاکستان کےایک دوسرے حصے میں موجود ایک مریض کو طبی مشورے دے رہی ہیں۔
وہ ان ہزاروں پاکستانی خواتین ڈاکٹروں میں شامل ہیں جو خاندانی ذمہ داریوں اور قدامت پسند معاشرے میں کام کی جگہ پر رکاوٹوں کی وجہ سے اپنا پیشہ چھوڑنے کے بعد اب 'ٹیلی میڈیسن‘ کے ذریعے دوبارہ طب کے شعبے میں واپس آ رہی ہیں۔
اگرچہ پاکستان میں میڈیکل رجسٹریشن کے مطابق خواتین ڈاکٹروں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے، لیکن شادی کے بعد بہت سی خواتین پریکٹس چھوڑ دیتی ہیں، جس سے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی والے اس ملک میں ڈاکٹروں کی کمی اور بڑھ جاتی ہے۔
(جاری ہے)
تین بچوں کی ماں اور کارڈیالوجیسٹ ثانیہ جعفری نے شادی کے بعد پریکٹس چھوڑ دی تھی۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ''میں طویل اوقات کار کا انتخاب نہیں کرنا چاہتی تھی اور نہ ہی لمبے وقت تک گھر سے دور رہنا چاہتی تھی۔
‘‘لیکن ڈیجیٹل ہیلتھ کمپنی 'صحت کہانی‘ کے ایک اقدام نے انہیں دوبارہ کام پر آنے میں مدد دی، جس نے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کیا تاکہ گھر سے کام کرنے والی زیادہ تر خواتین ڈاکٹروں کو پسماندہ علاقوں کے مریضوں سے جوڑا جا سکے۔
یہ پلیٹ فارم نجی مریضوں کو بھی خدمات فراہم کرتا ہے۔
اس پہل کے شریک بانی کے مطابق اب تک 7,500 ڈاکٹروں کو دوبارہ عملی میدان میں واپس لایا جا چکا ہے، اور اس کا مقصد پاکستان کے ان محروم علاقوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا ہے جہاں طبی خدمات کی کمی ہے۔
بالخصوص خواتین مریضوں کے لیے جو اکثر خواتین طبی عملے سے اپنے مسائل پر بات کرنے میں زیادہ سکون محسوس کرتی ہیں۔گیلپ سرویز اور ڈاکٹروں کی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں ایک تہائی سے زیادہ خواتین میڈیکل گریجویٹس یا تو کبھی پیشے میں داخل ہی نہیں ہوتیں یا شادی کے بعد اسے چھوڑ دیتی ہیں، جس کی وجوہات میں خاندانی تعاون کی کمی، بچوں کی دیکھ بھال کی ناقص سہولیات، اور ہراسانی بھی شامل ہیں۔
’ڈاکٹر دلہنیں‘
پاکستان
میں سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے مقابلہ کرنے والے ہزاروں امیدواروں میں خواتین کی اکثریت ہوتی ہے۔ یہ ایک نایاب مثال ہے جہاں طالبات کی تعداد طلبہ سے زیادہ ہے۔اس کے باوجود ہسپتالوں اور کلینکس میں کام کرنا خواتین کے لیے خاندانی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتا، خاص طور پر ان کے لیے جن کے بچے چھوٹے ہوتے ہیں۔
ذکیہ اورنگ زیب جو پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدر ہیں، کہتی ہیں کہ وہ خاتون ڈاکٹر جو ماؤں کو چھ ماہ تک صرف اپنا دودھ پلانے کا مشورہ دیتی ہے، اس کے لیے اپنے کام کی جگہ پر یہ سہولت موجود نہیں ہوتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ طویل اوقات کار، جنسی ہراسانی کا خطرہ، اور جب علاج کے نتائج خراب ہوں تو ان مریضوں کے اہل خانہ کی جانب سے ہجوم کی صورت میں تشدد کا خدشہ بھی خواتین اور ان کے خاندانوں کو اس پیشے سے دور کر دیتا ہے۔
ان مسائل اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی خراب سہولیات کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سارہ سعید خرم نے 'صحت کہانی‘ قائم کی۔ یہ ایک ڈیجیٹل نیٹ ورک ہے جس میں 80 کلینکس شامل ہیں، جہاں مریض ایک نرس کی رہنمائی میں دور بیٹھے ڈاکٹر سے مشورہ کرتے ہیں۔
ان کا مقصد ان برسوں کی تعلیم اور حکومتی سبسڈی سے حاصل ہونے والے فوائد کو حقیقت بنانا تھا، جن کے باعث بہت سے خاندان اپنی بیٹیوں کو ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں، کیونکہ پاکستانی معاشرے میں 'ڈاکٹر‘ کا ٹائٹل شادی کے مواقع بہتر بنانے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔
خرم کہتی ہیں، ''جب شادی کے کارڈ میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ آپ ایک ڈاکٹر سے شادی کر رہے ہیں، تو اس سے پورے خاندان کا سماجی مقام بلند ہو جاتا ہے۔ لیکن جب یہ مقصد پورا ہو جاتا ہے تو پھر خاندان میں موجود سماجی روایات کو چیلنج کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ اس ڈاکٹر کو کام کرنے کی اجازت دے دی جائے۔‘‘
خرم خود بھی اس صورتحال کو قریب سے سمجھتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں، ''میں بھی وہی بنی جسے ہم 'ڈاکٹر دلہن‘ یا 'ڈاکٹر بہو‘ کہتے ہیں۔‘‘اگرچہ وہ خود کام کرتی رہیں، لیکن انہوں نے دیکھا کہ میڈیکل کالج میں ان کی زیادہ تر ساتھی طالبات ایک ایک کر کے کام چھوڑتی گئیں، کیونکہ سسرال کے دباؤ کی تحت انہیں گھر سنبھالنے پر مجبور کر دیا گیا۔
ایک بہتر متبادل
میڈیکل ایسوسی ایشنوں کے مطابق تقریباً 70,000 خواتین، جو کہ کل 370,000 رجسٹرڈ ڈاکٹروں کا تقریباً پانچواں حصہ بنتی ہیں، سرکاری ریکارڈ میں تو موجود ہیں لیکن عملی طور پر کام نہیں کر رہیں۔
خواتین ڈاکٹروں کو آن لائن دوبارہ کام پر لانا مریضوں کے لیے بھی بہتر سہولیات فراہم کرتا ہے۔
ڈاکٹر
جعفری کے مطابق ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر نے لچک پیدا کی ہے اور یہ خواتین کو دوبارہ کام میں لانے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ آخرکار خاندانی حمایت سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔انہوں نے کہا، ''اگر کسی خاتون ڈاکٹر کو اپنے شوہر، والدین اور سسرال کا تعاون حاصل ہو تو وہ بہترین کارکردگی دکھا سکتی ہے۔ جنہیں یہ حمایت ملتی ہے وہ آگے بڑھ جاتی ہیں، لیکن جنہیں نہیں ملتی، انہیں اکثر اپنا پیشہ چھوڑنا پڑتا ہے۔‘‘
ادارت: مقبول ملک