اسلام آباد میں اکثر یہ افواہ اُڑتی ہے کہ مصنوعی ہائبرڈ نظام کی ضرورت ہی کیا ہے، سہیل وڑائچ کا دعویٰ

اس ملک کی اصل طاقت توفوج ہے اسے کھل کرسامنے آنا چاہئے اور خود ملک کے نظم ونسق کو چلاناچاہیے، بجائے بالواسطہ حکمرانی کے براہ راست حکمرانی ہونی چاہیے؛ سینئر صحافی کا کالم

Sajid Ali ساجد علی اتوار 3 مئی 2026 12:07

اسلام آباد میں اکثر یہ افواہ اُڑتی ہے کہ مصنوعی ہائبرڈ نظام کی ضرورت ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2026ء) سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کے حلقوں میں اکثر یہ افواہ اُڑتی ہے کہ مصنوعی ہائبرڈ نظام کی ضرورت ہی کیا ہے، اس ملک کی اصل طاقت تو فوج ہے اسے کھل کر سامنے آنا چاہئے اور براہ راست حکمرانی ہونی چاہیئے۔ اس حوالے سے اپنے کالم میں انہوں نے لکھا کہ ایک افواہ جو خوف پیدا کرنے کیلئے اڑائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جلد ہی سیاسی اور آئینی نظام کو لپیٹ کر پاکستان میں مارشل لا لگادیا جائے گا، فوج کے سربراہ، صدر پاکستان بن جائیں گے وہ باوردی صدر ہوں گے اور ملک کا نظم ونسق تبھی ٹھیک ہوگا جب جمہوری تکلف اور اس کے ساتھ جڑی خرابیوں سے جان چھڑائی جائےگی، اس حوالے سے چین، سنگاپور اور مصر کی مثالیں دی جاتی ہیں جہاں تیز ترین ترقی ہوئی اور شفاف نظام قائم ہے مگر وہاں پاکستان کی طرح کی جمہوریت نہیں ہے۔

(جاری ہے)

سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کے حلقوں میں اکثر یہ افواہ اُڑتی ہے کہ ہائبرڈ کے مصنوعی نظام کی ضرورت ہی کیا ہے، اس ملک کی اصل طاقت توفوج ہے اسے کھل کرسامنے آنا چاہئے اور خود ملک کے نظم ونسق کو چلاناچاہیے، بجائے بالواسطہ حکمرانی کے براہ راست حکمرانی ہونی چاہیے، یہی وہ دلیل تھی جس کی بِنا پر ایوب خان، یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے مارشل لا نافذ کرکے سیاسی نظام اور ملک کے ریاستی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ اور کئی برسوں پر محیط کوششیں کیں، ماضی کی یہ تمام کوششیں بری طرح ناکام ہوئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مارشل لا کے نفاذ کے وقت جو اہداف مقرر کئے گئے تھے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ ہوا اور چاروں مارشل لا بالآخر پھر سے جمہوریت کے اجرا پر منتج ہوئے، مارشل لا کے ہر تجربے سے پہلے کہا گیا کہ ماضی کے مارشل لا میں دراصل یہ غلطی ہوگئی تھی اب اس غلطی کی اصلاح کرلی گئی ہے، اب کی بار مارشل لا واقعی ملک کی سمت درست کردے گا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات والا نکلتا ہے ، یقیناً اس بار بھی اقتدار کے اونچے ایوانوں میں اس موضوع پر گفتگو ہوئی ہوگی اور اس حوالے سے مختلف ترجیحات پر غور کیا گیا ہوگا۔

سینئر صحافی لکھتے ہیں کہ یہ تو علم نہیں کہ کیا بحث ہوئی اور کس نے کیا کہا مگر یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ماضی کے تلخ تجربات کی وجہ سے مارشل لا کے نفاذ کی سنجیدہ اور بھرپور حمایت نظر نہیں آرہی اور عمومی اتفاق رائے یہی ہے کہ آئین کے اندر رہ کر ہی ملک کو چلانا ہے، یہ بات یقیناً خوش آئند ہے کیوں کہ آئین ریاست کا برقع ہے، برقع اڑ جائے تو ریاست عریاں ہوجاتی ہے ،پھر ہر کسی کو اس کی طاقت کے اصل مراکز کا پتہ چل جاتا ہے اور پھر اغیار کیلئے اچھا موقع ہوتا ہے کہ وہ ریاست کی کمزور جگہوں پر اسے نشانہ بنائیں۔