گدھے کے گوشت کی ایکسپورٹ میں تاخیر پر چینی کمپنی کی فیکٹری بند کرنے کی دھمکی

کمپنی نے دیگر چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے باز رہنے کا مشورہ دیا جس پر وزیراعظم آفس کی مداخلت پر چند ہی گھنٹوں میں مہینوں سے لٹکا ہوا معاملہ حل کردیا گیا

Sajid Ali ساجد علی اتوار 3 مئی 2026 11:17

گدھے کے گوشت کی ایکسپورٹ میں تاخیر پر چینی کمپنی کی فیکٹری بند کرنے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2026ء) پاکستان سے گدھے کے گوشت کی ایکسپورٹ میں تاخیر پر چینی کمپنی نے فیکٹری بند کرنے کی دھمکی دیدی۔ سینئر صحافی شہباز رانا کے مطابق پاکستان میں بیوروکریسی کی سست روی اور پالیسیوں پر عملدرآمد میں تاخیر نے اس وقت ایک سنگین صورتحال اختیار کرلی جب گوادر فری زون میں کام کرنے والی چینی کمپنی ہین گینگ (Hangeng) ٹریڈنگ کمپنی نے اپنا کاروبار بند کرنے اور دیگر چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے باز رہنے کا مشورہ دیا، تاہم وزیراعظم آفس کی مداخلت پر چند ہی گھنٹوں میں مہینوں سے لٹکا ہوا معاملہ حل کردیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ یکم مئی 2026 کو مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر چینی کمپنی نے ایک عوامی بیان جاری کیا جس نے حکومتی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی، کمپنی کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ کو فعال کرنے اور زرمبادلہ کمانے کے لیے تیار تھے لیکن مسلسل رکاوٹوں نے اسے ناممکن بنا دیا، غیر مارکیٹ عوامل اور آپریشنل رکاوٹوں کی وجہ سے اپنی فیکٹری بند کرنے پر مجبور ہیں، چین پاکستان بی ٹو بی (B2B) فورم میں شرکت کرنے والی کمپنیوں کو مشورہ ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے پالیسیوں کے نفاذ میں فرق اور ادارہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا بغور جائزہ لیں۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ چینی کمپنی کے اس سخت بیان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ متحرک ہوئے، وزیراعظم آفس نے ہنگامی ہدایات جاری کیں جس کے نتیجے میں جو فائل مہینوں سے وزارتِ خوراک، وزارتِ خزانہ اور کابینہ ڈویژن کے درمیان گھوم رہی تھی، اسے چند گھنٹوں میں منظور کرلیا گیا، اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے فیصلے کی وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے فوری توثیق کرائی گئی، آدھی رات تک اینیمل کوارنٹائن ڈپارٹمنٹ نے گوشت کی برآمد کا باقاعدہ اجازت نامہ جاری کردیا۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ای سی سی نے 27 اپریل کو برآمد کی منظوری دی تھی لیکن کابینہ ڈویژن نے اسے 29 اپریل کے اجلاس میں توثیق کے لیے نہیں بھیجا، ای سی سی کے فیصلے کے بعد یہ معاملہ وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز (CCLC) میں گیا وہاں دیگر کئی فیصلے تو منظور کر لیے گئے لیکن گدھے کے گوشت کی برآمد سے متعلق سمری کو مبینہ طور پر وفاقی کابینہ کے حتمی اجلاس میں پیش نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ معاملہ لٹک گیا، تاہم سرکاری حکام نے چینی کمپنی پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے جانوروں کی افزائش (Breeding) اور بین الاقوامی معیار کے مطابق معیار کو برقرار رکھنے کی شرائط پوری نہیں کی تھیں۔

کہا جارہا ہے کہ یہ بحران ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب وزیراعظم شہباز شریف رواں ماہ کے آخر میں چین کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ ایک بڑی بزنس کانفرنس میں شرکت کریں گے، اگر یہ معاملہ حل نہ ہوتا تو یہ دورہ اور سی پیک (CPEC) کے تحت زرعی برآمدات کا منصوبہ بری طرح متاثر ہو سکتا تھا، وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی تصدیق کی کہ منصوبہ بندی کی وزارت اس معاملے کی مسلسل نگرانی کر رہی تھی تاکہ وقت کی پابندی کے ساتھ برآمدی شپمنٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔

حکومت نے اب واضح کر دیا ہے کہ گوادر نارتھ فری زون سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد منزل مقصود ملک (چین) کی امپورٹ پالیسی کے مطابق سختی سے کی جائے گی، اس فوری ایکشن کا مقصد چینی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور گرتی ہوئی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (FDI) کو سہارا دینا ہے، جس میں رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران 27 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔