Live Updates

ایران جنگ کے پس منظر میں شہریت کا بطور ’ہتھیار‘ استعمال

DW ڈی ڈبلیو اتوار 3 مئی 2026 11:40

ایران جنگ کے پس منظر میں شہریت کا بطور ’ہتھیار‘ استعمال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 مئی 2026ء) جواد فیروز کو ٹیلی ویژن دیکھتے ہوئے معلوم ہوا کہ ان کی شہریت منسوخ ہو چکی ہے۔ بحرین کی پارلیمنٹ کے سابق رکن فیروز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میں لندن کے ایک مختصر دورے پر تھا جب وزارت داخلہ نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے افراد کی شہریتیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔‘‘ فیروز نے ٹی وی پر 31 ناموں کی ایک فہرست دیکھی، جس میں ان کا نام بھی شامل تھا۔

ان کے مطابق یہ نومبر 2012 کی بات ہے، جب انہیں گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر ان کی شہریت بھی منسوخ کر دی گئی۔ اس پورے معاملے میں وہ اکیلے نہیں تھے، بحرینی حکام نے اس دوران 990 افراد کی شہریت منسوخ کی۔

شہریت ختم ہونے کے بعد فیروز نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دی اور اب 'سلام فار ڈیموکریسی اینڈ ہیومن رائٹس‘ نامی ایک تنظیم چلاتے ہیں۔

(جاری ہے)

لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ایران جنگ کے تناظر میں بحرین میں موجود تارکین وطن کے ساتھ دوبارہ وہی تاریخ دہرائی جائے گی۔

خلیجی ریاست عمان نے بھی فروری 2025ء میں اپنی شہریت کے قوانین میں ترامیم کیں۔ اب قانون کے مطابق اگر کوئی شہری 'سلطنتِ عمان یا سلطان کے خلاف زبانی یا عملی طور پر کسی بھی جرم‘ کا ارتکاب کرے گا، یا کسی ایسی تنظیم میں شمولیت اختیار کرے گا جو ملک کو نقصان پہنچا سکتی ہو، تو اس کی شہریت منسوخ کر دی جائے گی۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکنان کے مطابق چونکہ ان 'کارروائیوں یا تنظیموں‘ کی کوئی تعریف واضح نہیں کی گئی تو حکومت اس قانون کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کر سکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے حوالے سے بھی ایسی ہی خبریں حال ہی میں سامنے آنا شروع ہوئی ہیں۔ یہاں مقیم کچھ ایرانیوں نے بتایا کہ ان کے رہائشی اجازت نامے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

اماراتی حکام نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی کمیونٹی ملک کا اہم حصہ ہے۔ تاہم کئی خبر رساں اداروں نے ایسے ایرانی تارکین وطن سے بات کی، جن کے رہائشی اجازت نامے منسوخ ہو چکے ہیں۔

ایران میں بھی اسی نوعیت کی کارروائیوں کی وارننگ دی جا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک ایرانی سیاست دان نے دھمکی دی کہ اگر بیرون ملک مقیم ایرانی باشندے 'دشمن ممالک‘ کے ساتھ تعاون کریں گے تو ان کی شہریت واپس لے لی جائے گی۔

تاہم شہریت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا صرف انہی ممالک تک محدود نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔

امریکہ اور یورپ بھی شہریت منسوخ کرنے کی دوڑ میں شامل

حال ہی میں امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے بھی ایک بار پھر محکمہ انصاف کو سینکڑوں امریکیوں کیشہریت منسوخ کرنے کی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی اور شہریت کے لیے پہلے سے موجود درخواست گزاروں کی سیاسی رائے جانچنے کے لیے نئی ہدایات جاری کیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے گزشتہ سال جرمنی میں قدامت پسند جماعتوں کے ایک خفیہ ورکنگ پیپر لیک ہونے کے بعد ان تجاویز پر تنقید کی، جن کے مطابق دوہری شہریت رکھنے والوں سے جرمن پاسپورٹ واپس لیے جائیں اگر وہ ''دہشت گردی کے حامی، سامیت مخالف یا انتہا پسند ‘‘ہوں۔

ہیومن رائٹس واچ نے خبر دار کیا ہے کہ خلیجی ریاستوں کے نئے قوانین کی طرح مندرجہ بالا اصطلاحات کی بھی کوئی واضح تعریف موجود نہیں ہے اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس ضمن میں امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق شہریت کو ہتھیار بنانے کا رجحان اس لیے بڑھا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں شہریت کو حق کے بجائے اعزاز سمجھے جانے کا تصور زور پکڑ رہا ہے۔

امریکی ریاست میسوری کی ویبسٹر یونیورسٹی میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی پروفیسر لنڈسے کنگسٹن کہتی ہیں، ''ریاستیں طویل عرصے سے شہریت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں لیکن اس کی نوعیت بدل رہی ہے۔

‘‘

گلوبل سٹیزن شپ آبزرویٹری اور نیدرلینڈز میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار سٹیٹ لیسنس اینڈ انکلوژن کے 2022 کے ایک مطالعے کے مطابق 11 ستمبر 2001 کے بعد کے دو عشروں میں سکیورٹی کی بنیاد پر شہریت کی منسوخی کا استعمال اور دائرہ کار وسیع ہوا ہے۔ محققین نے یہ نشاندہی بھی کی ہے کہ یہ رجحان بلخصوص مشرقِ وسطیٰ اور یورپ تیزی سے سامنے آرہا ہے۔

کنگسٹن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، 9/11 جیسے حملوں کے بعد بہت سے لوگوں کے لیے کسی بھی ملک میں اپنی قانونی حیثیت کے بارے خیالات کو بدل دیا۔ انہوں نے کہا، ''لوگوں نے شہریت کو غیر مستقل چیز کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔ ایک ایسی چیز جسے کمایا جانا ہو اور اس کے لیے اپنی اہلیت مسلسل ثابت بھی کرنا پڑے۔"

وہ کہتی ہیں، ''کسی شخص کی شہریت چھیننا زیادہ آسان ہو گیا ہے جب کہ یہ انسانی حقوق کے قوانین کی مکمل خلاف ورزی کے زمرےمیں ہی کیوں نا آتا ہو۔

‘‘

ماہرین کے مطابق اگرچہ شہریت کو ہتھیار بنانے کا رجحان ایران جنگ سے قبل بھی موجود تھا تاہم اس حالیہ جنگ نے حالات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔

امریکہ میں قائم کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ نے خلیجی ممالک میں شہریت کے حوالے سے پہلے سے موجود سختیوں کو اور بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جنگ نے وہاں ہونے والی سست رفتار اصلاحات کو مکمل روک دیا ہے اور حکومتیں اب زیادہ دباؤ اور عدم استحکام محسوس کر رہی ہیں۔

اس صورتحال میں وہ سیاسی کنٹرول بڑھانے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہیں، جن میں مخالفین یا ’مشکوک‘ سمجھے جانے والے لوگوں کی شہریت منسوخ کرنا بھی شامل ہے۔

گلوبل سٹیزن شپ آبزرویٹری اور نیدرلینڈز کے شریک ڈائریکٹر امل ڈی چکیرا کے مطابق، ''اگر آپ بحرین کو دیکھیں تو 2013 کے بعد شہریت ختم کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا تھا اور پھر بین الاقوامی دباؤ کے سبب حکومت نے اس حوالے سے کچھ اصلاحات کیں۔

‘‘

تاہم ان کے مطابق اب بحرین دوبارہ اسی سمت بڑھ رہا ہے اور یہ حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''لبنان اور ایران پر حملے اور مغربی ممالک کا اسرائیل اور امریکہ کو جوابدہ نہ ٹھہرانا، بین الاقوامی قانون کے تحت واضح طور پر غیر قانونی ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ سب ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ بحرین کی شہریت کے حوالے سے اپنے پرانے روش پر واپسی اس اعتماد کا نتیجہ ہے کہ حکومت سمجھتی ہے کہ وہ اب جنگ کے تناظر میں شہریت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے بھی جوابدہ نہیں ہوگی۔‘‘

ادارت: شکور رحیم

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات