آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد اور عوامی شعور کی بیداری کا موثر ذریعہ ہے، ممتاز زہری

اتوار 3 مئی 2026 21:30

کوئٹہ/اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 03 مئی2026ء) سینٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد اور عوامی شعور کی بیداری کا موثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے بغیر نہ تو حقائق منظر عام پر آ سکتے ہیں اور نہ ہی ایک صحت مند اور متوازن معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے اس لیے صحافت کے آزادانہ کردار کا تحفظ ناگزیر ہے۔

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ہم نے ہر دور میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، اور مستقبل میں بھی اس سلسلے میں ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ریاست کا ایک اہم ستون تسلیم کیا جاتا ہے، جو حکومتی کارکردگی پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ذمہ دار صحافت نہ صرف سچائی کو سامنے لاتی ہے بلکہ معاشرے میں شفافیت اور احتساب کے عمل کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات تک رسائی آسان ہوئی ہے وہیں غلط اطلاعات اور گمراہ کن مواد کے پھیلاو میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے حالات میں صحافتی اصولوں، تحقیق اور غیرجانبداری کو مقدم رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

انہوں نے صحافیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کے صحافیوں نے ہمیشہ مشکل حالات کے باوجود سچائی کا پرچم بلند رکھا اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا۔ انہوں نے ان تمام صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو خطرات کے باوجود حقائق عوام تک پہنچاتے ہیں۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بلوچستان کے تناظر میں کہا کہ یہاں کے صحافیوں کو مخصوص چیلنجز درپیش ہیں، جن کے حل کے لیے سنجیدہ اور مو ثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ صوبے میں بھی ایک محفوظ اور آزاد صحافتی ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحافت کی آزادی، صحافیوں کے حقوق اور اظہارِ رائے کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیںگے کیونکہ ایک فعال اور آزاد میڈیا ہی جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہوتا ہے۔ انہوں نے نوجوان صحافیوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ تحقیق، توازن اور مثبت سوچ کو اپنا شعار بنائیں اور اپنے قلم کو معاشرے میں بہتری، آگاہی اور امید کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔