Live Updates

ٹرمپ کا بحری حفاظتی مشن امداد کے بجائے اشتعال انگیزی سمجھا جا سکتا ہے، تجزیہ کار

آبنائے ہرمز اہم اثاثہ، ایران اس دبائو کو جنگ کے خاتمے کیلئے استعمال کر رہا ہے،نگارمرتضوی

پیر 4 مئی 2026 11:45

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 مئی2026ء) ایرانی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے ذریعے جہازوں کو حفاظتی حصار میں نکالنے کے اعلان کو ایران انسانی ہمدردی کے اقدام کے بجائے ایک اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کی سینئر فیلو اور ایران پوڈکاسٹ کی میزبان نگار مرتضوی نے گفتگو میں کہا کہ یہ جنگی علاقہ ہے اور ایران کی طرف سے اسے اسی طرح دیکھا جائے گا، اس اقدام کے باعث امریکی افواج اور وسائل ایران کی پہنچ کے مزید قریب آ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ یہ اقدام دھمکی ہے، مذاکراتی حکمت عملی یا ایران کی پیش کردہ تجاویز پر دبا ڈالنے کا طریقہ لیکن ایران اسے کسی صورت انسانی ہمدردی کا مشن نہیں سمجھے گا، اگر واقعی ایران اس منصوبے میں شامل ہو تو پھر کسی بحری تحفظ یا حصار کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔

(جاری ہے)

نگار مرتضوی نے کہا کہ اگر ایران شامل ہو یعنی آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھول دی جائے اور امریکہ پابندیاں ہٹا لے تو پھر کسی حفاظتی مشن کی ضرورت نہیں رہتی، آبنائے ہرمز ایران کیلئے اہم اثاثہ ہے اور یہی بنیادی دبائو کا ذریعہ ہے، ایران اس دبائو کو جنگ کے خاتمے کیلئے استعمال کر رہا ہے، اس کیلئے جنگ کا خاتمہ صرف عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ مستقل امن ہے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات