بھارتی سپریم کورٹ کے حکمنامے سے جموں و کشمیر میں تعلیمی پالیسیوں میں تضادات بے نقاب

منگل 5 مئی 2026 15:33

نئی دلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) رہبر تعلیم سکیم سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے ایک تازہ حکم نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے تعلیمی شعبے میں پالیسیوں کی عدم مطابقت اور انتظامی تضادات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سپریم کورٹ نے حکام کو غیر ومثر رہبر تعلیم اسکیم کے تحت منتخب امیدواروں کی آٹھ ہفتوں کے اندر تقرری کے احکامات جاری کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

(جاری ہے)

اگرچہ یہ سکیم 2018 میں باضابطہ طور پر ختم اور تمام تقرریاں منسوخ کر دی گئی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پہلے سے منتخب امیدواروں کے حقوق کو نہیں چھینا جا سکتا، جس سے حکومت کے فیصلے میں ابہام بے نقاب ہوا ہے۔یہ فیصلہ متضاد دکھائی دیتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے سکیم کی منسوخی کے باوجود تقرریوں کا حکم دیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پالیسی سازی میں تضاد کی عکاسی کرتا ہے، جہاں برسوں کی غیر یقینی صورتحال کے بعد فیصلوں کو تبدیل کردیاجاتا ہے۔