کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) وزیرِ اعلیٰ
سندھ سید مراد علی شاہ نے کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے 30 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی، فلاحی اور اصلاحاتی ایجنڈے کی منظوری دے دی، جس میں انفرااسٹرکچر، صحت، طرزِ حکمرانی،
تعلیم اور عوامی ریلیف کے لیے فنڈز، گرانٹس اور ادارہ جاتی اقدامات شامل ہیں۔اجلاس وزیرِ اعلی ہاس میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونینِ خصوصی، چیف سیکریٹری اور متعلقہ انتظامی سیکریٹریز نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلی نے کہا کہ
سندھ حکومت ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے ساتھ
مہنگائی اور
معاشی دبا سے متاثرہ طبقات کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بیک وقت انفرااسٹرکچر کی بہتری، سماجی تحفظ، صحت کے شعبے میں اصلاحات، ڈیجیٹل گورننس اور ادارہ جاتی مضبوطی پر توجہ دے رہی ہے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔
(جاری ہے)
کابینہ کی منظوری سے وزیرِ اعلی نے
کراچی، ٹھٹھہ، سجاول اور بدین میں ماہی گیر برادری کو فوری مالی ریلیف فراہم کرنے کے لیے 515 ملین روپے کے فیول سبسڈی پیکج کی منظوری دی۔وزیرِ اعلی نے کہا کہ یہ ایک مرتبہ دی جانے والی ادائیگی ہو گی، جو دو ماہ کے ایندھن کے اخراجات کو پورا کرے گی، کیونکہ
ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے مچھلی کی پیداوار میں 20 فیصد کمی آئی ہے اور ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے۔
اس اسکیم کے تحت 9,634 رجسٹرڈ کشتیوں کو ہدفی معاونت فراہم کی جائے گی، جس میں چھوٹے پیمانے اور ساحلی آپریشنز پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔18 سے 24 فٹ لمبی 2,331 چھوٹی کشتیوں (20 ہارس پاور آٹ بورڈ انجن) کو فی کشتی 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے، جس کے لیے مجموعی طور پر 466.2 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔10 سے 15 فٹ کی 488 کشتیوں (5 تا 10 ہارس پاور انجن) کو فی کشتی ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے، جس کی مجموعی لاگت 28.8 ملین روپے ہو گی۔
وزیرِ ماہی گیری محمد علی ملکانی نے بتایا کہ شفافیت اور آڈٹ کو یقینی بنانے کے لیے سبسڈی ڈیجیٹل طریقے سے ادا کی جائے گی۔ ماہی گیر ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میرین یا
کراچی فشریز ہاربر اتھارٹی کے ساتھ آن لائن رجسٹریشن کریں گے، جس کے بعد تصدیق ہونے پر رقم براہِ راست کشتی مالکان کے بینک اکانٹس میں منتقل کی جائے گی۔ اس عمل کی نگرانی محکمہ لائیو اسٹاک و فشریز کی مشترکہ کمیٹی کرے گی۔
وزیرِ بلدیات ناصر شاہ نے کابینہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات پیش کیں، جنہیں کابینہ نے منظور کر لیا۔کابینہ نے حیدرآباد اور کوٹری کے درمیان دریائے
سندھ پر 1.12 کلومیٹر طویل ہائی وے پل کے انجینئرنگ ڈیزائن کے لیے 147.2 ملین روپے کی کنسلٹنسی گرانٹ کی منظوری دی۔ وزیرِ اعلی نے کہا کہ یہ پل اندرونِ ملک آنے جانے والی ہلکی اور بھاری
ٹریفک کے لیے بڑی سہولت ثابت ہو گا۔
کابینہ نے حیدرآباد میں قبرستان کی تعمیر کے لیے 252.206 ملین روپے، قاسم آباد میں نئی
پانی کی لائنوں کی تنصیب کے لیے 800 ملین روپے اور خانپوٹہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (6 ایم جی ڈی) کے لیے نہر سے
پانی کی نئی لائن بچھانے کی منظوری دی۔قاسم آباد، حیدرآباد چوک پر انڈر پاس اور لنک روڈ کی تعمیر کے لیے 800 ملین روپے، جبکہ لطیف آباد میں اسپورٹس کمپلیکس کے لیے 500 ملین روپے منظور کیے گئے۔
شیخ ایاز روڈ کی توسیع
(سندھ میوزیم تا علی پیلس پمپنگ اسٹیشن) اور نکاسی آب کے نظام کے لیے 1.2 ارب روپے، جبکہ گڈو چوک سے یا علی کالونی تک ڈرینج چینل کی تعمیر کے لیے 900 ملین روپے کی منظوری دی گئی
۔کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کو شہر کی 24 ٹان میونسپل کارپوریشنز میں سڑکوں کی بحالی کے لیے 6.5 ارب روپے بطور گرانٹ اِن ایڈ دیے گئے۔وزیرِ اعلی نے کہا کہ حکومت شہر کے
سڑک انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور محکمہ خزانہ کو فوری فنڈز جاری کرنے کی ہدایت دی تاکہ کام کا آغاز کیا جا سکے۔
کابینہ نے ایس-3 منصوبے کے تحت ہارون آباد میں ایس ٹی پی کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے لیے 2 ارب روپے کی منظوری دی۔ڈرینج اور پانیکابینہ نے لاڑکانہ شہر کے ڈرینج نظام کی بہتری کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری دی۔ عدالتی نظام کی جدیدکاری اور سہولیات کے فروغ کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیرِ اعلی نے ضلعی عدالتوں میں مقدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور الیکٹرانک سرٹیفائیڈ نقول کے اجرا کے لیے 48.9 ملین روپے کی منظوری دی۔
مورو میں چار عدالتوں کی عمارتوں کی تعمیر کے لیے 432.597 ملین روپے منظور کیے گئے۔پیر الہی بخش لا کالج دادو کے لیے 25 ملین روپے بطور ایک مرتبہ گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری دی گئی۔غلام محمد میڈیکل کالج اسپتال سکھر میں 50 بستروں پر مشتمل ٹراما اینڈ ایمرجنسی رسپانس سینٹر کے لیے مشینری اور آلات کی خریداری کی مد میں 635.48 ملین روپے کی منظوری دی گئی، اور ہدایت کی گئی کہ اسے جون 2026 تک فعال کیا جائے۔
عمرکوٹ میں یتیم خانے کے قیام کے لیے 80 ملین روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔کابینہ کمیٹی کی سفارش پر وزیرِ اعلی
سندھ سید مراد علی شاہ نے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول
کراچی میں ابتدائی بچپن کی
تعلیم و نگہداشت (ECCE) عمارت کی تعمیر کے لیے 90 ملین روپے کی منظوری دی۔مراد علی شاہ نے
سندھ جاب پورٹل (SJP) کے دوسرے سال کے لیے تکنیکی معاونت اور آپریشنز کی مد میں 86.535 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دی۔
صوبے میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے "انڈس اے آئی ویک 2026" کے انعقاد کے لیے بھی فنڈز منظور کیے گئے۔کابینہ نے سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی (SDA) کے بقایا واجبات کی ادائیگی کے لیے 615.7 ملین روپے کی منظوری دی، جسے سخت ری اسٹرکچرنگ پلان سے مشروط کیا گیا ہے۔ اس پلان میں نئی بھرتیوں پر پابندی اور 421 اضافی ملازمین کو سرپلس پول میں شامل کرنا شامل ہے۔
مزید برآں، شدت پسندی کے تدارک کے مرکز برائے امتیاز (CVE) کو فعال بنانے کے لیے 42.86 ملین روپے مختص کیے گئے
۔سندھ پبلک پراپرٹی (ریموول آف انکروچمنٹ) ایکٹ 2010 کے مثر نفاذ کے لیے کابینہ نے
شہید بینظیر آباد ڈویژن میں انسدادِ تجاوزات ٹریبونل کے قیام کی منظوری دی۔صوبائی دارالحکومت میں تدفین کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ نے ضلع ملیر کے دیہہ میٹھا گھر میں 500 ایکڑ اراضی میگا قبرستان کے لیے مختص کرنے کی منظوری دی، جو محکمہ بلدیات کے نام الاٹ کی جائے گی۔
کابینہ نے
سندھ ڈیولپمنٹ اینڈ مینٹیننس آف انفرااسٹرکچر سیس ایکٹ 2026 میں ترمیم کی منظوری دی تاکہ طویل عرصے سے جاری قانونی تنازعات حل کیے جا سکیں۔اپریل 2026 کے آخر تک 132 درخواست گزار تصفیہ معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 18 ارب روپے سے زائد کی بینک گارنٹیز کیش ہو چکی ہیں۔کابینہ نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو مقدمات واپس لینے اور تصفیہ معاہدوں پر عملدرآمد کی آخری تاریخ 23 اگست 2026 تک بڑھانے کی اجازت دی۔
واجبات کی ادائیگی اقساط میں کی جائے گی، جس کے تحت 15 فیصد 15 جولائی 2026 تک، مزید 15 فیصد 15 اکتوبر 2026 تک، اور 15 فیصد 15 جولائی 2027 تک ادا کیا جائے گا، جبکہ باقی رقم 2028 سے شروع ہونے والی 48 مساوی سہ ماہی اقساط میں ادا کی جائے گی۔جو افراد 15 جولائی 2026 تک مکمل ادائیگی کریں گے یا مقدمات میں شامل نہیں ہیں، انہیں 0.80 فیصد کی رعایتی شرح کی پیشکش کی گئی ہے۔