Live Updates

ایران امریکہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت کا اثر؛ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 10 فیصد تک گرگئیں

امریکی کروڈ آئل 92 ڈالر فی بیرل پر آگیا جس کی قیمت میں 9 ڈالر کمی ریکارڈ کی گئی، برینٹ بھی 100 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرنے لگا

Sajid Ali ساجد علی بدھ 6 مئی 2026 16:29

ایران امریکہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت کا اثر؛ عالمی منڈی میں تیل کی ..
لندن/نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2026ء) عالمی سیاست میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور امریکہ و ایران کے درمیان امن مذاکرات کی خبروں نے عالمی منڈی میں ہلچل مچا دی ہے جہاں تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار ظاہر ہوتے ہی خام تیل کی قیمتیں 10 فیصد تک گر گئی ہیں، جو حالیہ مہینوں میں ایک دن کے دوران ہونے والی بڑی گراوٹ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، سرمایہ کاروں کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی امیدوں اور سپلائی چین کی بحالی کے امکانات کے باعث تیل کی قیمتیں یکدم نیچے آ گئیں، ایران اور امریکہ بات چیت میں پیشرفت کی خبروں کے بعد خام تیل کی قیمتیں 10 فیصد تک گرچکی ہیں، امریکی کروڈ آئل 92 ڈالر فی بیرل پر آگیا جس کی قیمت میں 9 ڈالر کمی ریکارڈ کی گئی، برینٹ بھی سستا ہونے کے بعد 100 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کیا جانے لگا۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ امریکی میڈیا اور ایرانی حکام کی جانب سے امن مذاکرات کے حساس مرحلے میں داخل ہونے کی تصدیق نے مارکیٹ کے خدشات کو ختم کر دیا ہے، جب سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ فریقین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور دشمنی ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں، اس سے تیل کی رسد میں رکاوٹ کا خوف ختم ہو گیا ہے، اگر امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے اور ایران کے منجمد فنڈز بحال ہوتے ہیں، تو ایرانی تیل کی عالمی منڈی میں باقاعدہ واپسی ہوگی، مارکیٹ میں تیل کی وافر مقدار موجود ہونے کے امکان نے قیمتوں کو کریش کردیا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اس بڑی کمی کا براہِ راست فائدہ پاکستان کو پہنچنے کا امکان ہے، اگر عالمی سطح پر یہ رجحان برقرار رہا، تو آئندہ چند روز میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جا سکتی ہے، تیل سستا ہونے سے مال برداری کے اخراجات کم ہوں گے، جس سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی استحکام آنے کی توقع ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں استحکام کا دارومدار اب آئندہ 48 گھنٹوں پر ہے، جس کے دوران ایران نے امریکی تجاویز پر اپنا جواب دینا ہے، اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو قیمتیں مزید نیچے آ سکتی ہیں، تاہم کسی بھی ڈیڈ لاک کی صورت میں مارکیٹ دوبارہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات