اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 06 مئی 2026ء) پشاور سے بدھ چھ مئی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اس کی ویب سائٹ پر شائع کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے اس شہر میں امریکی سفارت کاروں کی سلامتی سے متعلق پائے جانے والے خدشات اور تحفظات کے پیش نظر کیا گیا۔
نئی ایرانی امن تجویز بذریعہ پاکستان امریکہ تک پہنچا دی گئی
ساتھ ہی اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پشاور میں امریکی سفارتی سرگرمیوں اور ان سے جڑی تمام مصروفیات کا نگران آئندہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ ہو گا۔
اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیان کے مطابق، ''یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ کے لیے اس کے سفارتی عملے کی سلامتی کتنی اہم ہے اور یہ کہ واشنگٹن حکومت اپنے وسائل کو زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔
(جاری ہے)
‘‘
بنوں
میں خودکش حملہ، تین خواتین اور دو بچے ہلاککراچی میں دس افراد کی ہلاکت
پشاور
پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کا دارالحکومت ہے اور اس صوبے کی سرحدیں ہمسایہ ملک افغانستان سے ملتی ہیں۔ اس صوبے میں حالیہ مہینوں میں کئی ہلاکت خیز دہشت گردانہ حملے دیکھنے میں آ چکے ہیں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ان عسکریت پسندوں کے ساتھ مسلح جھڑپیں بھی، جن کے بارے میں اسلام آباد حکومت کا الزام ہے کہ کابل میں افغان طالبان کی حکومت ان عسکریت پسند عناصر کی پشت پناہی کرتی ہے۔افغانستان
اور پاکستان کے مابین جھڑپیں، کشیدگی پھر بڑھ گئیایران
کے خلاف 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ابتدائی دنوں میں، جب ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای تہران میں ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے، پاکستان میں ایران کی حمایت میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔پاکستانی امن کوششیں: صرف اچھی شہرت یا اثر دیرپا ترقی پر بھی؟
مارچ کے اوائل میں ان مظاہروں کے دوران پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور صوبہ سندھ کے ساحلی دارالحکومت کراچی میں بہت سے مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے وہاں امریکی قونصل خانے کی بیرونی دیوار عبور کر کے قونصلیٹ جنرل کی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔
اس پر وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے گولی چلا دی تھی اور مجموعی طور پر 10 افراد مارے گئے تھے۔
ادارت: شکو ررحیم