انٹرامتحانات میں طالبات کے برقعے اتروانا شرمناک ہے جماعت اسلامی ضلع غربی

طالبات کی عزت نفس کو مجروح کیا گیا اسلامی اقدار اور ہماری تہذیبی اقدار کی خلاف ورزی کی گئی

منگل 5 مئی 2026 21:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) کراچی میں انٹرمیڈیٹ امتحانات کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر امیر جماعت اسلامی ضلع غربی مدثر حسین انصاری، جنرل سیکرٹری عبدالحنان، نائب امرا خالد زمان شیخ اور شہباز خالد نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلامی اقدار، معاشرتی روایات اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔

انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایس ایم بی فاطمہ جناح گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سمیت مختلف امتحانی مراکز پر طالبات کے ساتھ جو ناروا سلوک روا رکھا گیا، وہ نہایت شرمناک اور قابلِ افسوس ہے۔ طالبات کو زبردستی برقعے اتارنے پر مجبور کرنا نہ صرف ان کی عزتِ نفس مجروح کرنے کے مترادف ہے بلکہ یہ عمل اسلامی تعلیمات اور ہماری تہذیبی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

(جاری ہے)

مزید برآں طالبات کے برقعوں اور موبائل فونز کی چوری انتظامیہ کی نااہلی اور بدانتظامی کا واضح ثبوت ہے۔ رہنماں نے کہا کہ شدید گرمی میں امتحانی مراکز پر پانی، بجلی اور پنکھوں جیسی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی نے طالبات کو اذیت میں مبتلا رکھا، جو حکومتی اداروں کی مجرمانہ غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ طالبات کے احتجاج پر عملے کا تضحیک آمیز رویہ صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث بنا، جو ناقابلِ برداشت ہے۔

انہوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں ،ذمہ دار عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ متاثرہ طالبات کو ان کے چوری شدہ سامان کا فوری ازالہ فراہم کیا جائے، آئندہ امتحانی مراکز پر طالبات کے تقدس، پردے اور بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام، والدین اور سماجی حلقوں میں اس واقعے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور لوگ اسے طالبات کی تذلیل اور تعلیمی نظام کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔

اگر ایسے واقعات کا فوری تدارک نہ کیا گیا تو عوامی ردعمل میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی ہر فورم پر طالبات کے حقوق، عزت و وقار اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی بھی ناانصافی پر خاموش نہیں رہے گی۔