دنیا بھر کے فری لانسرز کے لیے مصنوعی ذہانت اب نیا چیلینج بن گیاہے،چیئرمین پیوارا بلال بن ثاقب

منگل 5 مئی 2026 21:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی(پیوارا) بلال بن ثاقب نے کہاہے کہ دنیا بھر کے فری لانسرز کے لیے مصنوعی ذہانت(اے آئی) اب نیا چیلینج بن گیاہے۔منگل کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک پیغام میں انہوں نے فری لانسرز اور نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ اس دور میں صرف پڑھنا کافی نہیں، اے آئی کے ساتھ کام بنا کر سیکھنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔

چیئرمین پیوارا بلال بن ثاقب نے اے آئی ایجنٹس کی مدد سے ایک ورک ماڈل تیار کرتے ہوئے اپنے تجربہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پربھی شیئر کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ اے آئی کی خودکار عملدرآمد، کام کرنے کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ اے آئی ایجنٹس کی ٹیم سی ای او، انجینئر اور ڈیزائنر پر مشتمل ہے،اے آئی ورکنگ ماڈل میں فیصلوں کی منظوری انسان کے ہاتھوں میں رہے گی۔

انہوں نے کہاکہ اے آئی ایجنٹس ایک دوسرے سے رابطہ، کام کی تقسیم اور مسائل کی نشاندہی بھی خود کرتے ہیں،ورکنگ ماڈل میں جیسے جیسے کام کا دائرہ بڑھتا ہے، اے آئی ایجنٹس نئے وسائل اور ٹیم ممبرز کی ضرورت بھی خود بتاتے ہیں۔ بلال بن ثاقب نے بتایا کہ اے آئی ایجنٹس کے اخراجات اور کامیابی کی شرح ریئل ٹائم میں مانیٹر کی جا سکتی ہے،1.5 ٹریلین ڈالر کی عالمی فری لانسرز معیشت کو اے آئی ماڈل سے بڑا چیلنج درپیش ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ریسرچ، ایگزیکیوشن اور کوآرڈینیشن جیسے روایتی ہنر تیزی سے خودکار ہو رہے ہیں،اورمستقبل میں بڑی کمپنیاں بڑے عملے سے نہیں، کم مگر باصلاحیت انسانی نگرانی اور اے آئی ورک فورس سے چلیں گی۔