نارووال انٹرنیشنل پیس ڈائیلاگ 2026 صرف ایک بین الاقوامی ایونٹ نہیں بلکہ ایک تاریخی اور جذباتی لمحہ تھا، وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسراحسن اقبال

بدھ 6 مئی 2026 11:28

نارووال انٹرنیشنل پیس ڈائیلاگ 2026 صرف ایک بین الاقوامی ایونٹ نہیں بلکہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 مئی2026ء) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ نارووال انٹرنیشنل پیس ڈائیلاگ 2026 صرف بین الاقوامی ایونٹ نہیں بلکہ تاریخی اور جذباتی لمحہ تھا جہاں دنیا نے امن، برداشت اور باہمی احترام کے پیغام پر یک زبان ہو کر لبیک کہا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر بے حد فخر ہے کہ نارووال جیسا شہر، جو کبھی آزمائشوں اور مشکلات کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج عالمی قیادت، بین الاقوامی مکالمے اور امید کا مرکز بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو تصادم، نفرت اور تقسیم نہیں بلکہ بات چیت، مکالمے اور مشترکہ فہم کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر نے کہا کہ نارووال انٹرنیشنل پیس ڈائیلاگ 2026 میں 4 ہزار سے زائد نوجوانوں، 200 قومی وفود اور عالمی مندوبین کی شرکت نے اس بات کو ثابت کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن، بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم مراکش ڈاکٹر سعد الدين العثماني اور دیگر بین الاقوامی شخصیات کی موجودگی نے اس عالمی مکالمے کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ ان کے مطابق نارووال اب صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک عالمی پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جہاں مستقبل، امید اور انسانیت کے مشترکہ بیانیے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ یہ عالمی مکالمہ پاکستان کی جانب سے ایران–امریکہ تنازع سمیت مختلف علاقائی اور عالمی معاملات میں امن کوششوں اور مثبت سفارتی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور تعمیری روابط کے فروغ کا داعی رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مکالمے کی اصل روح 6 مئی 2018 کے اس افسوسناک واقعے سے جڑی ہوئی ہے جس نے انہیں ذاتی طور پر متاثر کیا، مگر اسی تکلیف کو ایک بڑے قومی اور انسانی مشن میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نفرت، انتہاپسندی اور تشدد کے خلاف جدوجہد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نارووال نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اختلاف کو نفرت میں نہیں بلکہ فہم، برداشت اور مکالمے میں تبدیل کر کے ہی پائیدار امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نازک عالمی ماحول میں پاکستان نے برداشت، اعتدال اور بقائے باہمی کی آواز بلند کی ہے، کیونکہ امن اب صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ بقا، ترقی اور استحکام کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔