دنیا نہایت نازک دوراہے پر ہے جہاں بڑھتی کشیدگی، تقسیم اور بیانیوں کی جنگ نے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، پروفیسر احسن اقبال

بدھ 6 مئی 2026 11:27

دنیا  نہایت نازک دوراہے پر  ہے جہاں بڑھتی  کشیدگی، تقسیم اور بیانیوں ..
نارووال (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 مئی2026ء) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت نہایت نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں بڑھتی کشیدگی، تقسیم اور بیانیوں کی جنگ نے عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، ایسے حالات میں نارووال سے اٹھنے والی مکالمے اور ہم آہنگی کی آواز امید، اعتدال اور عالمی امن کا مؤثر پیغام بن کر سامنے آئی ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ’’نارووال پیس ڈائیلاگ 2026‘‘ سے خطاب کے دوران کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کانفرنس محض ایک تقریب نہیں بلکہ واضح قومی و عالمی مشن کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جس کا بنیادی مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ مسائل کا حل تصادم نہیں بلکہ مکالمہ، برداشت اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ مختلف براعظموں سے آئے دانشوروں، ماہرین، نوجوانوں اور عالمی شخصیات کی شرکت اس امر کا ثبوت ہے کہ دنیا امن، انصاف اور فکری ہم آہنگی کے نئے بیانیے کی متلاشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہذب معاشروں کی اصل پہچان یہی ہے کہ اختلافات کو تصادم کے بجائے فہم و ادراک میں تبدیل کیا جائے۔پروفیسر احسن اقبال نے 6 مئی 2018 کے قاتلانہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ کسی ایک فرد پر نہیں بلکہ برداشت، اعتدال اور روشن خیالی کے نظریے پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے جسم میں موجود گولی آج بھی اس عزم کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ذاتی تکلیف کو قومی اور انسانی خدمت کے بڑے مشن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ اسی واقعے کے بعد نارووال نے ایک نئی شناخت حاصل کی اور آج یہ شہر امن، علم، نوجوانوں اور مکالمے کی علامت بن چکا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام امن، محبت اور انسانیت کا دین ہے اور انسانی جان کی حرمت ہر حال میں مقدم ہے۔ قرآن پاک کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو ایک جان کو ناحق قتل کرے گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ کسی فرد یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرے کیونکہ ایسا رویہ مذہب کو انتہاپسندی اور تکبر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پیغام با نی پاکستان محمد علی جناح کے وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے جنہوں نے ایسی ریاست کا تصور پیش کیا جہاں مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہو، تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں اور کسی کے ساتھ مذہب، فرقے یا شناخت کی بنیاد پر امتیاز نہ برتا جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں جن میں 80 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا ضیاع اور 120 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں سکیورٹی فورسز دہشت گردی کو شکست دے سکتی ہیں، وہاں انتہاپسندی کا مستقل علاج صرف تعلیم، انصاف، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آج دنیا کو نئے خطرے کا سامنا ہے جہاں اطلاعات اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جعلی خبریں، ڈیپ فیکس اور گمراہ کن مواد معاشروں میں نفرت اور تقسیم کو فروغ دے رہے ہیں۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ نوجوان نسل کو صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ تنقیدی سوچ، شعور اور اخلاقی بصیرت سے بھی آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

عالمی تناظر پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ غزہ میں جاری انسانی المیہ اور کشمیر کا دیرینہ تنازعہ عالمی برادری کے دوہرے معیار کی عکاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب انصاف، توازن اور عالمی قوانین کا یکساں اطلاق یقینی بنایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ نارووال سے اٹھنے والی یہ آواز صرف پیغام نہیں بلکہ ایسا مؤثر بیانیہ اور عزم ہے جو دنیا کو امن، برداشت اور مکالمے کی راہ پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔\932