موسمیاتی بحران میں ذمہ دار اور متاثرہ ممالک برابر نہیں ہیں، ڈاکٹرمصدق ملک کا بریتھ کانفرنس سے خطاب

بدھ 6 مئی 2026 14:28

موسمیاتی بحران میں ذمہ دار اور متاثرہ ممالک برابر نہیں ہیں،     ڈاکٹرمصدق ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 مئی2026ء) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی عصر حاضر کا سب سے بڑا چیلنج ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بے پناہ نقصانات اٹھا چکا ہے، پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے، سیلابوں نے جانی نقصان کے ساتھ لوگوں کے لیے معاشی مسائل بھی پیدا کیے،صحت عامہ اور ماحول اپس میں جڑے ہوئے ہیں، فضائی آلودگی شہریوں خصوصا بچوں کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے، درخت لگانا کافی نہیں ان کی حفاظت بھی ضروری ہے، ماحولیاتی نقصانات کا ازالہ عالمی ذمہ داری ہے، موسمیاتی بحران میں ذمہ دار اور متاثرہ ممالک برابر نہیں ہیں۔

جمعرات کو یہاں بریتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ بریتھ پاکستان کانفرنس کا مقصد اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ ماحولیاتی تباہیوں کے باعث لوگوں کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو چکا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مسلسل سیلابوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے جبکہ کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف شکاگو کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آلودہ ہوا کے باعث انسانی زندگی کے چھ سے سات سال کم ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک فیصد سے بھی کم کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے، جبکہ دنیا کے صرف دس ممالک تقریباً 70 سے 75 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر رہے ہیں اور تین ممالک مل کر تقریباً 60 فیصد اخراج کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے اسے عالمی ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ممالک آلودگی پیدا کر رہے ہیں وہ اس کے اثرات نہیں بھگت رہے، جبکہ متاثرہ ممالک اس کا خمیازہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف انصاف کا نہیں بلکہ انسانی حقوق کا بھی ہے، کیونکہ ترقی پذیر ممالک کے عوام بھی برابر کے حقوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے سیاسی عزم اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے اور نوجوانوں کے پاس بہترین آئیڈیاز موجود ہیں، مگر انہیں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

اس مقصد کے لیے حکومت نے ایک پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ہر سہ ماہی مقابلے منعقد کیے جائیں گے اور نوجوانوں کو ان کے تخلیقی اور سائنسی منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ گرین یونیورسٹی کے قیام پر بھی کام جاری ہے جہاں پاکستانی اور غیر ملکی طلبہ و اساتذہ مشترکہ تحقیق کریں گے، اور ایسی تحقیق کو فروغ دیا جائے گا جو عملی اور تجارتی بنیادوں پر قابلِ اطلاق ہو۔

انہوں نے کہا کہ اطالوی یونیورسٹی کے ساتھ بھی ایک منصوبے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جس کے تحت پاکستانی طلبہ اطالوی طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ مل کر تحقیق کریں گے، جبکہ بین الاقوامی ماہرین اس تحقیق کی نگرانی کریں گے تاکہ عملی اور کمرشل بنیادوں پر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے مسائل خصوصاً پانی اور ماحولیاتی چیلنجز کے شعبوں کا حل پیش کر سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ بریتھ پاکستان دراصل اس جدوجہد کی ایک علامت ہے جس کا مقصد ہر انسان کے لیے صاف ہوا اور بہتر ماحول کو یقینی بنانا ہے۔