Live Updates

صدر ٹرمپ کا ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر روک دینے کا اعلان

DW ڈی ڈبلیو بدھ 6 مئی 2026 13:40

صدر ٹرمپ کا ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر روک دینے کا اعلان

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 06 مئی 2026ء) پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی معطلی کا فیصلہ کیا، ٹرمپ


پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی معطلی کا فیصلہ کیا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں کے دوران ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روک دیا جائے گا۔

سماجی رابطوں کے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو وہاں سے بحفاظت نکالنے کے لیے شروع کیے گئے اس مشن کو وقتی طور پر معطل کیا جا رہا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔

(جاری ہے)

صدر ٹرمپ نے کہا کہ پیر کے دن سے شروع ہونے والا ’پروجیکٹ فریڈم‘ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی جانب ’بڑی پیش رفت‘ کے امکان کے باعث ’باہمی اتفاق‘ سے روکا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ’’پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر کیا ہے۔‘‘ امریکی صدر نے مزید لکھا کہ ایران کے خلاف مہم میں غیر معمولی عسکری کامیابی ملی اور ’پروجیکٹ فریڈم‘ قلیل مدت کے لیے معطل کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی بدستور جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا نے ٹرمپ کے اس بیان کو تہران کی فتح قرار دیا اور کہا کہ یہ وقفہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سمندری تجارت کے لیے اہم آبی گزر گاہ کو دوبارہ کھولنے میں ’مسلسل ناکامیوں‘ کے بعد ٹرمپ ’پیچھے ہٹ گئے ہیں‘۔

امریکی صدر کا یہ اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز کہا تھا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ آپریشن ’’ایپک فیوری‘‘ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد مکمل ہو چکا ہے۔

عباس عراقچی چین میں

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنگ کے آغاز کے بعد سے پہلی بار بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے نے اس ملاقات کی تصدیق کی تاہم کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی اس ملاقات کی توثیق کر دی ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملاقات میں ایران جنگ سرفہرست موضوع رہی ہو گی۔ تہران اور بیجنگ قریبی معاشی شراکت دار ہیں اور چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جبکہ بیجنگ امریکی اقدامات پر کھل کر تنقید بھی کرتا رہا ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت پر ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کی توقع کی جا رہی ہے۔ واشنگٹن نے اس دورے کا اعلان کیا ہے، تاہم بیجنگ کی جانب سے اس کی تاحال کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

ادارت: مقبول احمد ملک

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات