آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور بروقت انصاف ہماری اولین ترجیح ہے،چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت

بدھ 6 مئی 2026 17:59

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 مئی2026ء) چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان جسٹس امین الدین خان نے اسلام آباد بار کونسل کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے اپنے آئینی مینڈیٹ کے مطابق موثر کردار ادا کر رہی ہے۔وفاقی آ ئینی عدالت کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی نظام کو مزید موثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے مسلسل اصلاحات ناگزیر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت آئینی اصولوں کی روشنی میں مقدمات کے فوری اور معیاری فیصلوں کے لیے پرعزم ہے۔ چیف جسٹس سے ملاقات اسلام آباد بار کونسل (آئی بی سی) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے کی جس کی قیادت چیئرمین بار کونسل اور وائس چیئرمین کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

وفد نے وفاقی آئینی عدالت کے باقاعدہ آغاز اور موثر فعالیت پر چیف جسٹس کو مبارکباد پیش کی اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔

ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے اسلام آباد بار کونسل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وکلا برادری عدلیہ کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے نوجوان وکلا کی تربیت کے لیے کونسل کے کردار اور دو ہفتوں پر مشتمل تربیتی پروگرام کو قابل تحسین قرار دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں اور جوڈیشل اکیڈمیز نظریاتی قانونی تعلیم اور عملی عدالتی تجربے کے درمیان اہم رابطہ فراہم کرتی ہیں جس سے نظامِ انصاف کی مجموعی بہتری ممکن ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے قانونی پیشے میں مہارتوں خصوصاً جرح کی تکنیک کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عدالتی معیار میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ملاقات میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے اصلاحات، میرٹ پر مبنی تقرریوں اور ججوں کی منظم روٹیشن پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ شفافیت اور ادارہ جاتی کارکردگی میں اضافہ ہو۔وفد نے 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی ردعمل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی میں بہتری کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔

ملاقات کے اختتام پر وفد نے چیف جسٹس کو آئندہ لائسنس تقسیم تقریب میں شرکت کی دعوت دی جسے عدلیہ اور وکلا برادری کے تعلقات کے استحکام کی علامت قرار دیا گیا۔ملاقات باہمی تعاون کے اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ عدلیہ اور وکلا برادری کے اشتراک سے نظامِ انصاف کو مزید مضبوط، موثر اور عوامی اعتماد کے قابل بنایا جائے گا۔