جنرل ہسپتال میں سسٹک فائبروسس کے علاج و آگاہی کیلئے خصوصی کلینک کا افتتاح

جمعرات 7 مئی 2026 17:34

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا ہے کہ سسٹک فائبروسس جیسے پیچیدہ جینیاتی امراض کے خلاف مؤثر جنگ کے لیے جدید تشخیص، جینیاتی ٹیسٹنگ اور مربوط علاج ناگزیر ہیں،ایسے مریض بچوں کو بروقت تشخیص، اور والدین کی مناسب رہنمائی فراہم کر کے ان کی زندگی کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے شعبہ اطفال، لاہور جنرل ہسپتال کے زیر اہتمام منعقدہ‘‘سسٹک فائبروسس سیمینار’’اور خصوصی کلینک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے قائم کردہ کلینک میں مریض بچوں کو جدید تشخیصی سہولیات، جینیاتی کونسلنگ، فزیوتھراپی، غذائی رہنمائی اور ماہرین کی مسلسل نگرانی فراہم کی جائے گی۔

(جاری ہے)

سیمینار میں پروفیسر ڈاکٹر محمد فرید الدین ، ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ پیڈیاٹرک انڈس ہسپتال کراچی نے خصوصی شرکت کی۔

اس موقع پر ایم ایس جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، پروفیسر شاہد حسین، پروفیسر حسن سلیمان ملک، ڈاکٹر عائشہ افتخار ڈاکٹر محمد عثمان غنی پروفیسر ڈاکٹر محمد فرید الدین، ڈاکٹر محمد آصف نعیم، ڈاکٹر حوریہ رحمان، ڈاکٹر مزمل اعظم، ڈاکٹر محمد عمیر اور ڈاکٹر سندس طاہر تبسم لیاقت سمیت طبی ماہرین، ڈاکٹرز، طلبہ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کلینک کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ اس مرکز کا مقصد صرف علاج فراہم کرنا نہیں بلکہ مریض بچوں کی مجموعی صحت کو بہتر بنانا اور والدین کو گھریلو نگہداشت کی تربیت دینا بھی ہے تاکہ وہ بچوں کی صحت کو مؤثر انداز میں سنبھال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اور محکمہ صحت عوام کو عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور جنرل ہسپتال میں قائم کیا گیا یہ خصوصی کلینک اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔

طبی ماہرین نے مرض کی علامات اور ابتدائی تشخیص پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سسٹک فائبروسس بنیادی طور پر پھیپھڑوں اور نظامِ ہضم کو متاثر کرتا ہے۔ بیماری کی نمایاں علامات میں دائمی کھانسی، بار بار سینے کے انفیکشن، سانس لینے میں دشواری، وزن میں کمی اور بچوں کی ناقص نشوونما شامل ہیں۔ڈاکٹر محمد عثمان غنی نے جینیاتی ٹیسٹنگ کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بروقت جینیاتی تشخیص سے مرض کی شدت اور پیچیدگیوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد فرید الدین نے جین موڈیولیٹر ادویات اور علاج کے جدید عالمی امکانات پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈاکٹر محمد آصف نعیم نے سسٹک فائبروسس سے متعلق عالمی تحقیق اور بہترین طبی طریقہ کار کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس مرض کا مکمل علاج فی الحال ممکن نہیں، تاہم سویٹ کلورائیڈ ٹیسٹ کے ذریعے بروقت تشخیص، جدید ادویات، فزیوتھراپی، مناسب غذائیت اور باقاعدہ ڈاکٹرز کی رہنمائی سے مریضوں کی زندگی کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے کہا کہ جنرل ہسپتال کو بین الاقوامی معیار کے مطابق طبی سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے تاکہ مریضوں کو معیاری علاج میسر آ سکے۔اختتامی تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر نازش ثقلین نے تمام شرکاء، مقررین اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔اس موقع پر ڈاکٹر حوریہ رحمان، ڈاکٹر مزمل اعظم، ڈاکٹر محمد عمیر اور ڈاکٹر سندس طاہر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سسٹک فائبروسس کے بارے میں عوامی آگاہی مہم کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ صوبہ بھر کے زیادہ سے زیادہ بچوں کو بروقت تشخیص اور علاج کی سہولیات میسر آ سکیں۔