بھارت بھر میں 7ہزار993 سکولوں میں طلبا کے داخلے کی شرح صفر ہے، نیتی آیوگ کی رپورٹ میں انکشاف

جمعہ 8 مئی 2026 13:37

نئی دلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 مئی2026ء) نیتی آیوگ کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ بھارت بھر میں تقریبا 7ہزار993 سکولوں میں طلبا کے داخلے کی شرح صفر ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ’’بھارت میں سکول ایجوکیشن سسٹم: کوالٹی میں بہتری کیلئے تجزیہ اور پالیسی روڈ میپ‘‘ کے عنوان سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ سکول انتظامی ریکارڈ میں کام کرتے نظر آتے ہیں، لیکن اب وہ کسی بھی طالب علم کی خدمت نہیں کرتے۔

رپورٹ میں UDISE+2024-25 کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ یہ سکول صفر اندراج کے باوجود مالی اور انسانی وسائل استعمال کر رہے ہیں جو زمینی حقیقت اور منصوبہ بندی کے درمیان فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔رپورٹ میں خاص طور پر دیہی اور قبائلی علاقوں کے سکولوں میں میں اساتذہ کی نمایاں کمی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ایک لاکھ سے زیادہ سکول صرف ایک استاد کے ساتھ کام کررہے ہیں جو مجموعی سکولوں کی تعداد کا 7 فیصد سے زائد ہیں۔

جھارکھنڈ، نگر حویلی ، مہاراشٹر اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں طالب علم اوراستاد کا تناسب قومی اوسط سے کافی زیادہ ہے۔بھارت کے 98ہزار592سے زائد طالبات کے سکولوں میں جبکہ طلبہ کے 61ہزار540میں قابل استعمال بیت الخلا موجود نہیں ہیں۔رپورٹ میں کئی ریاستوں میں تدریسی عملے کی شدید کمی کابھی انکشاف کیاگیاہے ۔ صرف بہار میں پرائمری سکولوںمیں 2لاکھ سے زائد آسامیاں خالی ہیں، ثانوی اور سینئر سیکنڈری سطح کے سکولوں میں اساتذہ کی بالترتیب 36اور33ہزار آسامیاں خالی ہیں۔ کرناٹک، ہریانہ اور مہاراشٹرکے سکولو ں کو بھی اساتذہ کی نمایاں کمی کا سامنا ہے ۔