Live Updates

مذاکراتی تجاویزپرغور جاری، امریکی ڈیڈ لائن کی کوئی حیثیت نہیں، مناسب وقت پر جواب دیں گے، ایران

ہم اپنا کام اپنے طریقے سے کر رہے ہیں، جواب میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ اس متن کا انتہائی تکنیکی ہونا ہے، ایک ایک لفظ کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں؛ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 9 مئی 2026 11:44

مذاکراتی تجاویزپرغور جاری، امریکی ڈیڈ لائن کی کوئی حیثیت نہیں، مناسب ..
تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2026ء) ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی الٹی میٹم کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنی شرائط پر فیصلہ کریں گے۔ عالمی میڈیا کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیان کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دی گئی تجاویز ابھی زیرِ غور ہیں اور ان کا جواب کسی جلد بازی کے بجائے مناسب وقت پر دیا جائے گا۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی سیاست دانوں کی جانب سے طے کردہ ڈیڈ لائنز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سیاست دانوں کی مقرر کردہ ڈیڈ لائنز ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں، ہم اپنا کام اپنے طریقے سے کر رہے ہیں اور ہمیں کسی الٹی میٹم کی پرواہ نہیں ہے، جواب میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ اس متن کا انتہائی تکنیکی ہونا ہے۔

(جاری ہے)

ایرانی حکام ایک ایک لفظ اور تاریخ کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

بتایا گیا ہے کہ ایران میں اس حساس معاملے پر فیصلہ سازی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے، جس کی وجہ سے وقت لگ رہا ہے، ان اہم شراکت داروں میں شامل ہیں مذاکراتی ٹیم جس کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، پاسدارانِ انقلاب جو اس وقت خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر ایک بڑے اسٹیک ہولڈر کے طور پر موجود ہیں، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل جو جنگ سمیت ایران کے تمام سیکیورٹی معاملات کی نگرانی کر رہی ہے، رہبرِ معظم یعنی سپریم لیڈر کیوں کہ حتمی منظوری اور 'گرین سگنل' سپریم لیڈر کی جانب سے آئے گا، جس کے بعد ہی جواب امریکہ کو ارسال کیا جائے گا۔

ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ دستاویز پر کام جاری ہے اور اس کا گہرائی سے مطالعہ کیا جا رہا ہے، اگرچہ تہران نے کسی وقت کا تعین نہیں کیا، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ جواب کسی بھی وقت سامنے آ سکتا ہے، ایران اس بار کسی بھی ایسی تحریر پر دستخط کرنے سے گریزاں ہے جو اس کے قومی مفادات یا سکیورٹی پر سمجھوتہ کرتی ہو۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات