20 سال بعد قتل کیس کا فیصلہ، عمر قید کاٹنے والے ملزم کو باعزت بری کرنے کا حکم

محض مفرور ہونا کسی کے قاتل ہونے کی علامت نہیں، ایک بے گناہ کو سزا ملنے سے بہتر ہے کہ 10 گنہگار رہا ہو جائیں؛ عدالتی ریمارکس

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 9 مئی 2026 11:58

20 سال بعد قتل کیس کا فیصلہ، عمر قید کاٹنے والے ملزم کو باعزت بری کرنے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2026ء) سپریم کورٹ نے 20 سال پرانے قتل کیس کا بڑا فیصلہ سنا دیا، جس میں عدالت نے دو دہائیوں سے قانونی جنگ لڑنے والے اور عمر قید کی سزا کاٹنے والے ملزم محمد اقبال کو عدم شواہد کی بنیاد پر باعزت بری کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں نامزد ملزم کی اپیل پر سماعت کے بعد اسے رہا کرنے کا حکم دیا ہے، ملزم اپنی زندگی کے قیمتی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار چکا ہے، تاہم اب عدالتِ عظمیٰ نے اسے بے گناہ قرار دے دیا، اس سلسلے میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اس کیس کا 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا ہے، جس میں عدالتی نظام کے اصولوں کا اعادہ کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ 29 اپریل 2006ء کو کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں درج ایف آئی آر کے تحت محمد اقبال پر دو افراد کے قتل کا الزام تھا، جس پر انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی تھی، سپریم کورٹ نے تقریباً 20 سال پرانے قتل کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے ملزم محمد اقبال کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی اور شواہد میں سنگین تضادات اور شک کی بنیاد پر انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

(جاری ہے)

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فوجداری قانون کا بنیادی اصول ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے، مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، گرفتاری کے خوف یا پولیس ہراسانی کی وجہ سے مفروری کو جرم کے طور پر نہیں لیا جا سکتا جب کہ شکایت کنندہ عینی شاہد نہیں تھا، گواہوں کے بیانات میں واضح تضادات موجود تھے، جائے وقوعہ اور پولیس سٹیشن کے درمیان 2 سے 3 کلومیٹر فاصلہ ہونے کے باوجود ایف آئی آر اسی دن درج نہ کرانے کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

عدالت نے مزید کہا کہ زخمی گواہ کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ کرانا اور جائے وقوعہ سے ملنے والے 5 خالی خولوں کو فرانزک لیبارٹری نہ بھیجنا بھی تفتیشی عمل میں سنگین خامیاں ہیں، استغاثہ معقول شک کے بغیر کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا، جبکہ ہائی کورٹ کا یہ مؤقف کہ قتل کے 14 سال بعد ملزم کی گرفتاری جرم ثابت کرتی ہے، یہ قانونی طور پر درست نہیں، ملزم سے 342 کے بیان میں مفروری کے حوالے سے سوال نہیں کیا گیا، لہٰذا یہ پہلو ان کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا، کیس میں پیش کیے گئے شواہد نقائص اور شکوک و شبہات سے بھرپور ہیں، اس لیے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ عدالت نے شک کا فائدہ ملزم کو دینے کی اہمیت پر زور دیا اور سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص مقدمہ درج ہونے کے بعد مفرور ہو جاتا ہے، تو محض اس بنیاد پر اسے قصوروار تصور نہیں کیا جا سکتا، مفروری کو سزا کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا جب تک کہ ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں، یہ ایک طے شدہ قانونی اصول ہے کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے کے بجائے 10 گنہگاروں کو بری کر دینا زیادہ بہتر ہے۔