امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی ایک بارپھر بھارت کوخاص تشویش والا ملک قراردینے کی سفارش

ہفتہ 9 مئی 2026 16:46

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 مئی2026ء) امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے ایک بار پھر امریکی وزارت خارجہ پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی آزادی کی سنگین صورتحال پر بھارت کوخاص تشویش والا ملک قرار دے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق واشنگٹن میں ایک سماعت کے دوران اس معاملے کا جائزہ لیا گیا جس میںکمشنروں، قانون سازوں، اسکالرز اور قانونی ماہرین نے مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کو درپیش بدترین حالات کے ساتھ ساتھ بیرون ملک ناقدین پر بڑھتے ہوئے ظلم جبر پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

یو ایس سی آئی آر ایف کے سربراہ وکی ہارٹزلر نے کہا کہ بھارت میں مذہبی آزادی میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری 2026 کی سالانہ رپورٹ میں ایک بار پھر سفارش کی گئی ہے کہ محکمہ خارجہ بھارت کو مذہبی آزادی کی سنگین صورتحال پر ایک خاص تشویش والا ملک قرار دے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں بھارتی حکومت قومی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر امتیازی قانون سازی، مذہبی رہنماؤں کی من مانی نظربندی اور مذہبی اقلیتوںکے خلاف حملوں کو نہ روک کرمذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں سہولت فراہم کررہی ہے۔

ہارٹزلر نے کہاکہ آج 2026میں28 میں سے 13 بھارتی ریاستوں میں انسداد تبدیلی مذہب کے قوانین نافذ ہیں جن میں سخت سزائیں شامل ہیں۔یو ایس سی آئی آر ایف کے وائس چیئرمین آصف محمود نے اپنے تحریری مشاہدے میں کہا کہ بھارتی حکومت نے بین الاقوامی جبر کی کارروائیوں کے ذریعے بیرون ملک بھی مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔امریکی نمائندے کرس اسمتھ نے بھارت کے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (FCRA) اور سول سوسائٹی پر اس کے اثرات کی طرف توجہ مبذول کروائی۔

انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت طویل عرصے سے مذہبی اقلیتوں خاص طور پر عیسائیوں، مسلمانوں اور سکھوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں سہولت فراہم کررہی ہے۔ سابق سفیر برائے عالمی فوجداری انصاف اسٹیفن ریپ نے کہاکہ پچھلی ایک دہائی سے اقلیتوں کے خلاف مظالم معمول بنتے جا رہے ہیں جہاں ہرروز تشدد اور تشدد کی اپیل معمول بن چکی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس سنگین صورتحال میںایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ مجرموں کا احتساب کیا گیا ہو اور انصاف فراہم کیا گیا ہو ۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کی اسکالر انگانا چٹرجی نے کہاکہ ایک آمرانہ حکومت میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔سینٹر فار اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رقیب نائیک نے کہا کہ ریاست کی سرپرستی میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور بے دخلی انتہا پر پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے آسام اور دیگر ریاستوں میں بنگالی مسلمانوں کے دستاویزی کیسوں کا حوالہ دیا جنہیں زبردستی بنگلہ دیش کی سرحد پر لے جایا گیا اور انہیں اس ملک میں پھینک دیا گیا جہاں وہ کبھی نہیں رہے تھے۔انہوں نے کہاکہ بھارت میں روہنگیا پناہ گزینوںکے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا گیا ہے۔جارج ٹاؤن یونیورسٹی لاء سینٹر کے پروفیسر ارجن سیٹھی نے کہا کہ بھارتی حکام شمالی امریکہ میں کارکنوں کو قتل کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2023 میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا حوالہ دیا۔انہوں نے امریکن سکھ کارکن گروپتونت سنگھ پنن کے خلاف مبینہ سازش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نیویارک میں ایک امریکی سکھ شہری گروپتونت سنگھ پنن کو قتل کرنے کی سازش کر رہی تھی۔