معرکہ حق نے جنوبی ایشیا کی عسکری، سفارتی و جغرافیائی سیاست میں نئی بحث کو جنم دیا ہے ،سینیٹر محمد عبدالقادر

ہفتہ 9 مئی 2026 20:55

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 مئی2026ء) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ 10 مئی 2025 کی پاک بھارت فضائی جنگ نے جنوبی ایشیا کی عسکری، سفارتی اور جغرافیائی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے یہ مختصر مگر انتہائی شدید معرکہ خطے میں طاقت کے توازن، عسکری حکمت عملی اور عالمی صف بندی کے نئے رجحانات کو واضح کرتا ہے، اس جنگ کے دوران بھارت کو اسرائیل کی جدید تکنیکی اور انٹیلی جنس معاونت حاصل رہی، جبکہ پاکستان کو چین کی عسکری، فضائی اور تکنیکی حمایت میسر آئی۔

اس تناظر میں یہ معرکہ ایشیا کی پہلی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی فضائی جنگ قرار دیا جا سکتا ہے، جہاں روایتی عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک وارفیئر، سیٹلائٹ معاونت، ریڈار سسٹمز اور جدید فضائی حکمت عملی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

(جاری ہے)

یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ بھارت نے اسرائیلی ساختہ جدید ڈرونز، ریڈار سسٹمز اور میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے فضائی برتری حاصل کرنے کی کوشش کی، جبکہ اسرائیلی دفاعی ماہرین اور انٹیلی جنس تعاون نے بھارتی فضائیہ کو جدید حربی حکمت عملی فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب پاکستان نے چینی ساختہ جی-10 سی اور جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کے ذریعے مؤثر دفاعی کارروائیاں انجام دیں۔ چین کی جانب سے فراہم کردہ جدید ریڈار، الیکٹرانک وارفیئر اور سیٹلائٹ معاونت نے پاکستانی فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کے مطابق جنگ کے بعد چین کی جانب سے پاکستان کی حمایت کا کھل کر اظہار عالمی سطح پر ایک اہم اور غیر معمولی پیشرفت ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بیجنگ جنوبی ایشیا میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے پہلے سے زیادہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے یہ حقیقت بھی اجاگر کی ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف روایتی فوجی قوت سے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، اتحادی تعاون، سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر، اور فضائی برتری کے امتزاج سے جیتی جائیں گی۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ جنوبی ایشیا اب ایک نئے جیو پولیٹیکل دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں پاکستان اور چین کا بڑھتا ہوا اسٹریٹجک تعاون خطے کی سیاست، سلامتی اور طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔