- ایران جنگ: ٹرمپ نے تنازعہ ختم کرنے کی ایران کی تجاویز مسترد کر دیں
ایران جنگ: ٹرمپ نے تنازعہ ختم کرنے کی ایران کی تجاویز مسترد کر دیں
سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا،’’میں نے ایران کی نام نہاد قیادت کی جانب سے ملنے والے ردعمل کو پڑھا ہے۔ یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں۔
‘‘ایران نے پاکستان کے ذریعے اتوار کو امریکہ کی تازہ ترین تجویز کا جواب بھیجا تھا، جس کا مقصد ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنا تھا۔
سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا،’’میں نے ایران کی نام نہاد قیادت کی جانب سے ملنے والے ردعمل کو پڑھا ہے۔
(جاری ہے)
یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔
مجھے یہ پسند نہیں۔‘‘صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی امن تجویز پر ایران کے ردعمل کو فوری طور پر مسترد کرنے کے بعد پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ نوٹ کیا گیا کیونکہ خدشہ ہے کہ 10 ہفتوں سے جاری یہ تنازعہ مزید طول پکڑ سکتا ہے اور آبنائے ہرمز سے جہاز رانی معطل رہ سکتی ہے۔
جنگ
شروع ہونے سے پہلے 28 فروری تک اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے تقریباً بیس تا پچیس فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی تاہم آبنائے ہرمز کی ایرانی بندش کی وجہ سے یہ ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔امریکہ
نے تجویز دی تھی کہ متنازعہ معاملات، بشمول ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت شروع کرنے سے پہلے لڑائی ختم کی جائے۔ واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی بھی بات کہی تھی۔ایران کا ردعمل کیا تھا؟
مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایران نے اتوار کو ثالث ملک پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو جواب بھیجا، جس میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر زور دیا گیا، خصوصاً لبنان میں جہاں امریکہ کا اتحادی اسرائیل، ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجوؤں سے لڑ رہا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران نے جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی شامل کیا اور آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری پر زور دیا۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی تجویز میں امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے، مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت دینے، ایرانی تیل کی فروخت پر امریکی پابندی ختم کرنے اور ضبط شدہ ایرانی اثاثے واپس کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔
ٹرمپ نے ایرانی جواب کو مسترد کرتے ہوئے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ اس سے قبل ایک اور پوسٹ میں انہوں نے تہران پر الزام لگایا کہ وہ تقریباً پچاس برس سے امریکہ کے ساتھ ’’کھیل رہا‘‘ ہے، ’’اب وہ (ایرانی حکام) ہنس نہیں سکیں گے۔‘‘
دریں اثنا ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ایران ’’کبھی بھی دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا اور قومی مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا۔
‘‘ایرانی سرکاری میڈیا نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی امریکی تجویز کو ’’ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔
ایران
کے ساتھ اس تنازعے میں امریکہ کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی ہے، کیونکہ نیٹو اتحادیوں نے مکمل امن معاہدے اور بین الاقوامی طور پر منظور شدہ مشن کے بغیر آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ آئندہ کون سے نئے سفارتی یا عسکری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ادارت: عاطف بلوچ