ماہانہ 5 سے 6 لاکھ روپے تنخواہ کا لالچ، روس یوکرین جنگ کیلئے پاکستانی نوجوانوں کی مبینہ بھرتی کا انکشاف

روس میں قانونی ورک پرمٹ اور محفوظ ملازمت کا لالچ دیا گیا اور کک یعنی باورچی کے ویزے پر روس بھجوایا گیا، وہاں پہنچ کر صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی؛ متاثرہ نوجوان کا ایف آئی اے کو بیان

Sajid Ali ساجد علی پیر 11 مئی 2026 12:19

ماہانہ 5 سے 6 لاکھ روپے تنخواہ کا لالچ، روس یوکرین جنگ کیلئے پاکستانی ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2026ء) روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں پاکستانی نوجوانوں کو جھانسہ دے کر بھرتی کیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے، انسانی سمگلنگ کے ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف ایف آئی اے نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ جیو نیوز کے مطابق پاکستان میں سرگرم ایک مبینہ انسانی سمگلنگ نیٹ ورک نے نوجوانوں کو بہتر مستقبل اور بھاری تنخواہوں کا خواب دکھا کر روس یوکرین جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا، متاثرہ نوجوان کی واپسی کے بعد ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ راولپنڈی سرکل میں باضابطہ انکوائری درج کرلی گئی۔

درخواست گزار منصور اختر جمال نے ایف آئی اے کو دیئے بیان میں ہوشربا تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں روس میں قانونی ورک پرمٹ، محفوظ ملازمت اور ماہانہ 5 سے 6 لاکھ روپے تنخواہ کا لالچ دیا گیا، انہیں "کک" یعنی باورچی کے ویزے پر روس بھجوایا گیا، اس کام کے لیے ایجنٹ ہشام بن طارق کو مختلف اقساط میں تقریباً 47 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کیے گئے۔

(جاری ہے)

متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ جیسے ہی وہ روس پہنچے، تو صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی، ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ روسی فوج میں شامل ہوں اور یوکرین کے خلاف جنگی سرگرمیوں میں حصہ لیں، انکار کی صورت میں انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، جس سے ان کا خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوا، انہیں پاکستانی سفارتخانے اور دیگر ذرائع کی مدد سے انتہائی مشکل حالات میں واپس پاکستان لایا گیا، جس پر مزید لاکھوں روپے کے اخراجات آئے۔

بتایا گیا ہے کہ متاثرہ نوجوان نے ایف آئی اے کو بینک ٹرانزیکشنز اور مالی ریکارڈ سمیت تمام ثبوت فراہم کر دیئے ہیں، جس پر ایف آئی اے راولپنڈی سرکل نے انکوائری نمبر 266/26 درج کر کے معاملے کی چھان بین شروع کر دی ہے، ابتدا میں اس کیس کی ذمہ داری ایس ایچ او زاہد بھٹی کے سپرد تھی، تاہم ان کا تبادلہ ہونے کے باعث اب یہ کیس محرم نامی افسر دیکھ رہے ہیں، ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ اور جبری بھرتی کے اس نیٹ ورک کے ڈانڈے کہاں ملتے ہیں، اس پر گہرائی سے کام کیا جا رہا ہے۔

درخواست گزار نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایجنٹ ہشام بن طارق اور اس کے گروہ کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے تاکہ ملک کے مزید نوجوانوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال ہونے سے بچایا جا سکے۔