Live Updates

موجودہ علاقائی صورتحال کےتناظر میں مقامی ریفائننگ صلاحیت بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک

پیر 11 مئی 2026 17:11

موجودہ علاقائی صورتحال کےتناظر میں مقامی ریفائننگ صلاحیت بڑھانا وقت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 مئی2026ء) وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ملکی توانائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے آئل ریفائنریوں کی بروقت اپ گریڈیشن کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال کےتناظر میں مقامی ریفائننگ صلاحیت بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، ریفائنریوں کی جدیدکاری سے نہ صرف یورو فائیو معیار کے صاف ایندھن کی پیداوار ممکن ہوگی بلکہ پاکستان بیرونی سپلائی چینز پر انحصار کم کرکے توانائی کے شعبے میں زیادہ خودمختاری حاصل کر سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پٹرولیم ڈویژن میں ملک کی آئل ریفائنریوں کے چیف ایگزیکٹو افسران اور منیجنگ ڈائریکٹرز کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں برائون فیلڈ اپ گریڈیشن ریفائنری پالیسی پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا اور اس عمل کو تیز کرنے پر غور کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزیرنےریفائننگ سیکٹر کی سٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مقامی ریفائنریاں بلا تعطل ایندھن کی فراہمی اور پاکستان کے توانائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے قومی اثاثوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پیدا ہونے والی علاقائی صورتحال نے بیرونی سپلائی چینز پر انحصار کم کرنے اور مقامی ریفائننگ صلاحیت و لچک کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ ریفائنریوں کی بروقت اپ گریڈیشن پیداوار بڑھانے، کارکردگی بہتر بنانے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق صاف ستھرے یورو فائیو ایندھن کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریفائنری اپ گریڈیشن سے پاکستان کی ریفائنریاں یورو فائیو معیار کے مطابق ایندھن تیار کرنے کے قابل ہوں گی جس سےماحولیاتی بہتری، انجن کی بہتر کارکردگی اور اخراج میں کمی میں نمایاں مدد ملے گی۔وفاقی وزیر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ 2023ء میں دونوں ریفائننگ پالیسیوں کے اجراءکے باوجود ان پر عملدرآمد میں پیش رفت تعطل کا شکار رہی۔

انہوں نے کہا کہ ریفائنریوں کی جدیدکاری اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے رکاوٹوں کا خاتمہ ضروری ہے۔اجلاس کے دوران ریفائننگ پالیسیوں اور اپ گریڈیشن معاہدے کے مجوزہ خاکے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ ان پر موثر اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ چیف ایگزیکٹوافسران اور منیجنگ ڈائریکٹرز نے درپیش اہم مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے عملی حل بھی پیش کیے اور کہا کہ انہیں پٹرولیم ڈویژن کی کوششوں پر مکمل اعتماد ہے۔

پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ کو اپ گریڈیشن منصوبوں کی عملداری متاثر کرنے والا اہم مسئلہ قرار دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ان چیلنجز کے حل کے لیے ایک جامع تجویز آئندہ بجٹ کی تیاری سے قبل متعلقہ فورم کو پیش کی جائے تاکہ ریفائننگ پالیسیوں پر مزید تاخیر کے بغیر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریفائنری اپ گریڈیشن قومی ترجیح ہےاور پاکستان کے ریفائننگ انفراسٹرکچر کی جدیدکاری توانائی تحفظ، صاف ایندھن کے فروغ اور بیرونی چیلنجز کے مقابلے میں ملکی استعداد کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

اجلاس میں سیکرٹری پٹرولیم، ایڈیشنل سیکرٹری (پالیسی)، ڈائریکٹر جنرل آئل،پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے سی ای او، پارکو کے منیجنگ ڈائریکٹر،اٹک ریفائنری کے سی ای او، سینرجیکو (Cynergico) کے سی ای او اورنیشنل ریفائنری لمیٹڈ کے سی ای او نے شرکت کی۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات