Live Updates

امریکہ ایران کشیدگی؛ ایرانی صدر نے 3 ممکنہ آپشنز دنیا کے سامنے رکھ دیئے

ایران عقل و دانش، بصیرت اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے مذاکرات کیلئے مکمل طور پر تیار ہے؛ مسعود پزشکیان کا بیان

Sajid Ali ساجد علی پیر 11 مئی 2026 17:57

امریکہ ایران کشیدگی؛ ایرانی صدر نے 3 ممکنہ آپشنز دنیا کے سامنے رکھ دیئے
تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2026ء) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں جاری حالیہ کشیدگی اور امریکہ اسرائیل کے ساتھ تنازعات کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ ایران اس وقت تین ممکنہ راستوں کے سنگم پر کھڑا ہے، تاہم تہران کی ترجیح عقل و دانش پر مبنی سفارت کاری ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے بین الاقوامی تنازعات اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ایران کی حکمتِ عملی کو تین بنیادی آپشنز میں تقسیم کر دیا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ ایران تشدد کے بجائے حکمت اور قومی مفاد پر مبنی حل کو ترجیح دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے تہران کے پاس تین راستے موجود ہیں، پہلا راستہ باوقار مکالمے کا ہے، یہ آپشن باہمی احترام اور برابری کی سطح پر مذاکرات پر مبنی ہے، جہاں تمام فریقین ایک دوسرے کے وقار کا خیال رکھتے ہوئے حل تلاش کریں، دوسرا راستہ جمود یا سابقہ صورتحال ہے، اس سے مراد موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنا ہے، جہاں کشیدگی تو موجود رہتی ہے لیکن معاملات کسی بڑے تصادم کی طرف نہیں جاتے۔

(جاری ہے)

صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تیسرا راستہ تشدد اور افراتفری پر مبنی ہے، یہ وہ راستہ ہے جو تصادم، جنگ اور بے امنی کی طرف لے جاتا ہے، جس سے پورے خطے کا امن داؤ پر لگ سکتا ہے، تاہم ایران ایک ذمہ دار ملک کے طور پر مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا، ایران عقل و دانش، بصیرت اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے، ان کے اس بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایران امریکی قیادت یا عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک نئے سفارتی فریم ورک میں بات چیت کے لیے زمین ہموار کر رہا ہے، بشرطیکہ ایران کے قومی وقار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات