بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس میں کمی کی تجویز، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھنے کا امکان

تنخواہوں میں اضافے سے ملازم ہائر ٹیکس سلیب میں چلا جاتا ہے، جس سے اس کی اصل آمدنی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، اگر ٹیکس کم کر دیا جائے تو ملازمین کی بچت میں اضافہ ہوگا؛ حکام کا مؤقف

Sajid Ali ساجد علی پیر 11 مئی 2026 15:39

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس میں کمی کی تجویز، سرکاری ملازمین ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2026ء) حکومتِ پاکستان آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک نئی معاشی حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت تنخواہوں میں روایتی اضافے کے بجائے انکم ٹیکس میں کمی کو بطور ریلیف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انگریزی اخبار 'ڈان' کی رپورٹ کے مطابق اس تجویز کا مقصد ملازمین کی جیب میں بچنے والی رقم میں اضافہ کرنا ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ان کی ٹیم ایک ایسے فارمولے پر کام کر رہی ہے جس کے ذریعے مہنگائی کے مارے تنخواہ دار طبقے کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے، جس کیلئے حکومت ٹیکس چھوٹ کی حد میں اضافہ اور ٹیکس سلیب کی شرح میں کمی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے خزانے پر 170 ارب روپے کا بوجھ پڑا تھا، حکام کا خیال ہے کہ اس رقم کو ٹیکس چھوٹ کے لیے استعمال کرنا زیادہ مؤثر ہوگا کیوں کہ تنخواہوں میں اضافے سے ملازم 'ہائر ٹیکس سلیب' میں چلا جاتا ہے، جس سے اس کی اصل آمدنی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، اگر ٹیکس کم کر دیا جائے تو سرکاری و نجی دونوں شعبوں کے ملازمین کی بچت میں اضافہ ہوگا، چاہے ان کی بنیادی تنخواہ نہ بڑھے۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں تنخواہ دار طبقے نے 425 ارب روپے ٹیکس دیا، جو ریئل سٹیٹ سیکٹر کے 200 ارب روپے سے دو گنا زیادہ ہے، ریٹیلرز اور ہول سیلرز کے مقابلے میں بھی اس طبقے کا حصہ سب سے زیادہ رہا ہے، جس کے باعث وزیر خزانہ انہیں ریلیف دینے کے حق میں ہیں، یہ تجاویز 15 مئی سے شروع ہونے والے آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ مذاکرات میں رکھی جائیں گی، حکومت کو عالمی ادارے کو قائل کرنا ہوگا کہ ٹیکس ریلیف سے ریونیو پر منفی اثر نہیں پڑے گا بلکہ اس سے معاشی استحکام آئے گا۔

معلوم ہوا ہے کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 سے 35 فیصد حالیہ اضافہ برقرار رہے گا، جو یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا، عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے بارے میں حتمی فیصلہ آئی ایم ایف کی مشاورت اور ترقیاتی بجٹ میں ممکنہ کٹوتیوں کے بعد کیا جائے گا کیوں کہ حکومت گزشتہ چار سالوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 60 فیصد اضافہ کر چکی ہے لیکن نجی شعبہ جمود کا شکار رہا، اب ٹیکس میں کمی کو ایک منصفانہ حل سمجھا جا رہا ہے تاکہ نجی شعبے کے ملازمین کو بھی مساوی فائدہ پہنچ سکے۔