اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 مئی 2026ء) فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) تقریباً 2,800 سے زائد ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔
سن دو ہزار بیس میں امریکہ نے ابراہیمی معاہدے کے تحت یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کروائے تھے۔
لندن میں قائم تھنک ٹینک RUSI کے ماہر مائیکل اسٹیفنز کے مطابق، ''یو اے ای کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ایران کی جانب سے اس پر حملوں کی ایک بڑی وجہ ہیں، جیسے کہ یہ ایک طرح کی سزا ہو۔‘‘
اسٹیفنز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ 'اگر ہمیں اسرائیل نے نشانہ بنایا ہے تو ہم اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنائیں گے‘۔
(جاری ہے)
متحدہ عرب امارات کی اسرائیل اور امریکہ سے قربت
ایرانی حملوں کے جواب میں یو اے ای نے اسرائیل کے ساتھ فوجی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون مزید بڑھا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے پہلی بار اپنا آئرن ڈوم دفاعی نظام بھی یو اے ای میں تعینات کیا۔
ماہرین کے مطابق یو اے ای جتنا اسرائیل کے قریب جاتا ہے، ایران کے لیے اسے نشانہ بنانے کی وجہ بھی اتنی ہی بڑھتی ہے۔
اس کے علاوہ ابو موسیٰ اور تنب جزائر کے تنازعے نے بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے ۔ ایران ان جزائر پر کنٹرول رکھتا ہے تاہم یو اے ای بھی ان پر دعویٰ کرتا ہے۔ایران
کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں بحرین، کویت اور قطر کی تیل برآمدات رک گئی ہیں جبکہ عمان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ ابوظہبی نہ صرف اس اہم آبی راستے کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر زیادہ سخت اقدامات کی اپیل بھی کر رہا ہے۔اماراتی حکام نے دیگر خلیجی ممالک، جیسے سعودی عرب، عمان اور قطر کے مقابلے میں تہران کو زیادہ سخت انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مائیکل اسٹیفنز کے مطابق اس طرز عمل نے انہیں امریکہ اور اسرائیل کے مزید قریب کر دیا ہے۔
یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کی تجزیہ کار چنزیا بیانکو کا کہنا ہے کہ تہران یو اے ای پر اتنا دباؤ ڈالنا چاہتا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوجی مہم روکنے کا مطالبہ کرے۔
یو اے ای میں موجود بیانکو نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملے اب یو اے ای کے لیے ایک وجودی خطرے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
ان کے مطابق، ''یو اے ای کے حکام کا کہنا ہے کہ ایران ملک کے اس بنیادی ماڈل کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، جس کی بنیاد اس سوچ پر ہے کہ خلیجی خطہ عدم استحکام کے باوجود محفوظ اور خوشحال رہ سکتا ہے۔
‘‘یو اے ای کی بدلتی پالیسیاں
گزشتہ چند برسوں میں متحدہ عرب امارات نے اپنی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے اسے تیل پر انحصار کم کرنے اور خود کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، سیاحت، کاروبار اور سرمایہ کاری کے علاقائی مرکز میں تبدیل کرنے کے منصوبوں کے مطابق ڈھالا ہے، جسے یو اے ای 2031 کا نام دیا گیا ہے۔
اس خلیجی ملک نے اپنے اہم ہمسایہ ملک سعودی عرب سے مختلف پالیسیاں بھی اختیار کی ہیں۔
جہاں یو اے ای اور بحرین اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، وہیں سعودی عرب نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملوں اور غزہ جنگ کے باعث اسرائیل کے ساتھ کو تعلقات معمول پر لانے کے عمل کو روک دیا۔یکم مئی کو یو اے ای نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور وسیع تر اوپیک پلس اتحاد سے بھی علیحدگی اختیار کر لی، جس پر اب بھی بڑی حد تک سعودی عرب کا غلبہ ہے۔
علاقائی تنازعات میں یو اے ای کا مبینہ کردار
سعودی عرب
اور یو اے ای افریقہ کے مختلف تنازعات میں بھی مخالف گروہوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ جرمن ادارہ برائے بین الاقوامی و سلامتی امور کے ماہر وولفرام لاخر کے مطابق،"متحدہ عرب امارات افریقی تنازعات میں سب سے زیادہ جارحانہ ایکسٹرنل ایکٹر بن چکا ہے۔”انہوں نے ڈی بلیو کو بتایا کہ حالیہ برسوں میں یو اے ای لیبیا اور ایتھوپیا میں سرگرم رہا ہے اور اس وقت خاص طور پر سوڈان، صومالیہ اور یمن میں اس کا کردار نمایاں ہے۔
ایک حالیہ تجزیے کے مطابق، ''یو اے ای کے لیے یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ راستے طویل مدتی بنیادوں پر اہم وسائل اور تجارتی گزرگاہوں تک رسائی کو یقینی بناتے ہیں۔‘‘ لاخر اس تجزیے کے شریک مصنف بھی ہیں۔ اس تھنک ٹینک کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اس تجزیے کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھا گیا، ''اسی لیے فوجی مداخلت کو ان معاشی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔
‘‘تاہم یو اے ای اپنی فوج کسی دوسرے ملک میں شازونادر ہی تعینات کرتا ہے۔
لاخر کے مطابق، ''یو اے ای کی پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی فوج کم استعمال کرتا ہے اور لوکل پارٹنرز کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھاتا ہے، جیسے لیبیا میں خلیفہ حفتر یا سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے سربراہ محمد حمدان دقلو کے ذریعے۔
‘‘انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای غیر ملکی اور کرائے کے جنگجوؤں کو بھی مالی اور عسکری مدد فراہم کرتا ہے، جن میں لیبیا میں سوڈانی جنگجو اور حال ہی میں سوڈان میں کولمبیا کے کرائے کے جنگجو شامل ہیں۔
اگرچہ اماراتی حکام ان سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی مسلسل تردید کرتے ہیں تاہم لاخر کے مطابق، ''دستیاب شواہد کافی مضبوط ہیں۔‘‘