عمرعبداللہ کا جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ،لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات پر اعتراض

منگل 12 مئی 2026 12:21

نئی دلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 مئی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک بار پھر جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب حکومت کو اختیارات نہ دینے سے سیاسی اور انتظامی بحران مزید گہرا ہورہا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عمرعبداللہ نے نئی دہلی میں بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ سے ملاقات کے دوران کہاکہ کاروباری قواعد، ٹیلی کام کنٹرول اور دیگر انتظامی معاملات غیر منتخب لیفٹیننٹ گورنر کے پاس نہیں بلکہ منتخب حکومت کے دائرہ اختیار میں ہونے چاہئیں۔

عمر عبداللہ نے مودی حکومت کے حالیہ فیصلے پر بھی اعتراض کیا جس کے تحت لیفٹیننٹ گورنر کو ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 2023 کے تحت انٹرنیٹ اورٹیلی کام سروسز کی معطلی اور پیغامات تک رسائی جیسے اختیارات دیئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ فون اور انٹرنیٹ بندش کے احکامات پہلے ہی لیفٹیننٹ گورنر کے زیر انتظام محکمہ داخلہ جاری کرتا ہے اور مزید اختیارات منتخب حکومت کی عملداری کو کمزور کرتے ہیں۔

عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی اور خطے کا بیوروکریٹک کنٹرول کم کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ اقدامات سے جموں و کشمیر میں منتخب نمائندوں کے اختیارات مزید محدود ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ انٹرنیٹ پابندیوں اور انتظامی کنٹرول پر بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔