مودی کا ہندوتوا ایجنڈا بے لگام، مغربی بنگال میں نام نہاد بھارتی جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب

منگل 12 مئی 2026 17:08

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 مئی2026ء) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی ہندوتو اتنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی پر مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں انتخابی عمل کو متنازع بنانے اور مسلم مخالف جذبات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق امریکی اخبارنیویارک ٹائمزنے ایک رپورٹ میں خبردار کیاہے کہ مودی حکومت نے مغربی بنگال میں منظم دھاندلی اور مسلمان مخالف جذبات ابھار کر نام نہاد جمہوری انتخابات کا ڈھونگ رچایا ۔

رپورٹ کے مطابق بھارت عملی طور پر ایک ایسی سیاسی صورتحال کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں ایک ہندوتواتنظیم کی بالادستی جمہوری توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی حکومت کے دور میں اپوزیشن کی سیاسی گنجائش مسلسل محدود ہوتی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ اور سیاسی مبصرین کے مطابق مغربی بنگال جیسے اہم اپوزیشن گڑھ میں بھی بی جے پی کی جارحانہ انتخابی حکمت عملی نے سیاسی ماحول کو شدید کشیدہ بنایا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں اور انتخابی نظام کو اپوزیشن جماعتوں پر دبا ﺅڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔مخالف سیاسی حلقوں نے الزام عائد کیاہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن نے بہار اور مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں سے مسلم ووٹرز کے بڑی تعداد میں نام خارج کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے انتخابی شفافیت کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق ووٹر لسٹوں میں تبدیلیاں اور مذہبی بنیادوں پر سیاست کو ہوا دے کر ہندو ووٹ بینک کو متحرک کرنے کی کوشش کی گئی۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں ہندو قوم پرستی کے بیانیے کو ریاستی سیاست میں نمایاں حیثیت دی گئی ہے، جس کے باعث بھارت میں اقلیتوں، خصوصا مسلمانوں، کے تحفظات میں اضافہ ہوا ہے۔