پولیس کی غفلت یا ملزمہ انمول پنکی کو بچانے کی کوشش؟ ایف آئی آر میں سنگین غلطی سامنے آگئی

پولیس نے مقدمے میں ملزمہ کی رہائشگاہ کا جو پتہ درج کیا، وہ سراسر غلط نکلا، جس کی وجہ سے ایک شریف خاندان کیلئے مشکل کھڑی ہوگئی

Sajid Ali ساجد علی بدھ 13 مئی 2026 11:28

پولیس کی غفلت یا ملزمہ انمول پنکی کو بچانے کی کوشش؟ ایف آئی آر میں سنگین ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2026ء) کراچی کی بدنام زمانہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کی گرفتاری کا معاملہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا، گارڈن پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں سنگین غلطیاں سامنے آئی ہیں، جس کی وجہ سے ایک شریف خاندان شدید مشکل میں پھنس گیا۔ اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق 'کوکین کوئین' انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد درج ہونے والی ایف آئی آر نے پولیس کی کارکردگی اور نیت پر کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، پولیس نے مقدمے میں ملزمہ کی رہائشگاہ کا جو پتہ درج کیا، وہ سراسر غلط نکلا۔

ایف آئی آر کے متن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمہ کو گارڈن کے علاقے میں واقع بلال آرکیڈ کے ایک فلیٹ سے گرفتار کیا گیا، تاہم حقائق اس کے برعکس نکلے، اس فلیٹ میں گزشتہ 8 سال سے ایک محنتی خاندان کرائے پر مقیم ہے جس کا منشیات یا ملزمہ پنکی سے کوئی تعلق نہیں ہے، میڈیا پر جیسے ہی یہ خبر چلی کہ پنکی کو اس پتے سے گرفتار کیا گیا ہے تو مالک مکان نے فوری طور پر متاثرہ خاندان کو دو روز کے اندر فلیٹ خالی کرنے کا نوٹس دے دیا۔

(جاری ہے)

متاثرہ خاندان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس صورتحال کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں، وہ نہ تو انمول کو جانتے ہیں اور نہ ہی کبھی اس نام کی کسی عورت کا اس عمارت میں سنا ہے، پولیس نے بغیر تصدیق کے ان کے گھر کا پتا ایف آئی آر میں کیوں شامل کیا؟ کیا یہ محض غفلت تھی یا ملزمہ کی اصل پناہ گاہ کو چھپانے کی کوئی دانستہ کوشش ہے؟ حکومت سندھ اور اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور پولیس کی غلطی کی سزا انہیں نہ دی جائے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں غلط پتے کا اندراج ملزمہ کو عدالت میں فائدہ پہنچا سکتا ہے، کیونکہ استغاثہ کا کیس کمزور پڑ جاتا ہے، جب کہ اس سے قبل ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی کے عدالت لانے پر بھی پولیس افسران کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔