کوکین ڈیلر انمول پنکی کا منشیات سپلائی کے دوران تلاشی سے بچنے کیلئے خواتین رائیڈرز کے استعمال کا اعتراف

ملزمہ نے جان بوجھ کر خواتین کا انتخاب کیا کیوںکہ پولیس ناکوں اور چیک پوسٹوں پر خواتین کی تلاشی مردوں کے مقابلے میں کم لی جاتی ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر کروڑوں روپے کی کوکین سپلائی کی گئی

Sajid Ali ساجد علی بدھ 13 مئی 2026 11:43

کوکین ڈیلر انمول پنکی کا منشیات سپلائی کے دوران تلاشی سے بچنے کیلئے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2026ء) پاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد ہونے والے انکشافات میں سب سے حیران کن پہلو منشیات کی ترسیل کے لیے اپنایا گیا جدید اور غیر روایتی طریقہ کار ہے، جس میں قانون کی نظروں سے بچنے کے لیے خواتین رائیڈرز کو ڈھال بنایا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حساس ادارے کے ہاتھوں لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن سے گرفتار ہونے والی انمول عرف پنکی نے دورانِ تفتیش اپنے نیٹ ورک کے بارے میں سنسنی خیز حقائق سے پردہ اٹھایا ہے، ملزمہ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پوش علاقوں میں منشیات کی محفوظ ترسیل کے لیے ایک منظم آن لائن سسٹم چلا رہی تھی، جس کا بنیادی ستون خواتین رائیڈرز تھیں۔

خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ملزمہ نے منشیات کی سپلائی کے لیے جان بوجھ کر خواتین کا انتخاب کیا کیوں کہ پولیس ناکوں اور چیک پوسٹوں پر خواتین کی تلاشی مردوں کے مقابلے میں کم لی جاتی ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر کروڑوں روپے کی کوکین ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاتی تھی، خواتین رائیڈرز کو عام ڈلیوری گرلز یا فیملی ممبر سمجھ کر ہائی پروفائل ہاؤسنگ سوسائٹیز میں آسانی سے داخلہ مل جاتا تھا، پوش علاقوں کے کسٹمرز، خاص طور پر خواتین، مرد رائیڈرز کے بجائے خواتین سے ڈلیوری لینے میں زیادہ سہولت محسوس کرتی تھیں۔

(جاری ہے)

ملزمہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ ماڈل بننے کی خواہش میں ڈانس پارٹیوں کا حصہ بنی، جہاں اس کی ملاقات ایک وکیل سے ہوئی جو کوکین کے کاروبار سے منسلک تھا، پہلے وکیل شوہر سے کام سیکھنے اور علیحدگی کے بعد اس نے ایک سابق پولیس انسپکٹر سے شادی کی، جس نے اے مبینہ طور پر تحفظ فراہم کیا، ملزمہ نے اپنے تین بھائیوں اور خواتین رائیڈرز کی مدد سے کراچی میں منشیات کا ایک ایسا نیٹ ورک بنایا جو صرف آن لائن آرڈرز پر کام کرتا تھا۔

بتایا جارہا ہے کہ حساس ادارے نے لاہور کے علاقہ نواب ٹاؤن میں بھی ملزمہ کے گھر پر چھاپہ مار کر کروڑوں روپے مالیت کی اعلیٰ کوالٹی کی منشیات برآمد کی، دلچسپ بات یہ ہے کہ ملزمہ لاہور میں رہائش پذیر ہونے کے باوجود اس کی زیادہ تر سپلائی لائن کراچی میں مرکوز تھی، جہاں خواتین رائیڈرز ہوم ڈلیوری کے ذریعے کوکین پہنچاتی تھیں۔