دھندا چلتا رہے گا، کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی نے گرفتاری سے قبل ہی اپنا جانشین مقرر کردیا

اگر میرے ساتھ کچھ ہو جاتا ہے تو میرے اسی نمبر سے کام چلتا رہے گا، اس کے بعد میران ایک قریبی دوست تمام معاملات سنبھالے گا جو اسی نمبر سے کلائنٹس کے ساتھ رابطے میں رہے گا؛ ملزمہ کا گاہکوں کو مبینہ پیغام

Sajid Ali ساجد علی بدھ 13 مئی 2026 11:10

دھندا چلتا رہے گا، کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی نے گرفتاری سے قبل ہی اپنا ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2026ء) پاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، ملزمہ نے ناصرف ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا بلکہ اپنی گرفتاری کی صورت میں کاروبار کو جاری رکھنے کے لیے باقاعدہ ایک جانشین بھی مقرر کردیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی نے اپنی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر ایک منظم منصوبہ بندی کر رکھی تھی، ملزمہ نے اپنے کلائنٹس کو ایک پیغام کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ اس کی عدم موجودگی میں بھی منشیات کی فراہمی کا سلسلہ نہیں رکے گا۔

اس سلسلے میں ملزمہ نے اپنے گاہکوں کو ہدایات دیں کہ اگر میرے ساتھ کچھ ہو جاتا ہے تو میرے اسی نمبر سے کام چلتا رہے گا، اس کے بعد اس کا ایک قریبی دوست تمام معاملات سنبھالے گا جو اسی نمبر سے کلائنٹس کے ساتھ رابطے میں رہے گا، اس اقدام کا مقصد اپنے نیٹ ورک کو قانون کی گرفت سے بچانا اور منشیات کی سپلائی لائن کو برقرار رکھنا تھا۔

(جاری ہے)

تحقیقات کے دوران یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ انمول پنکی صرف پولیس کو نہیں بلکہ اینٹی نارکوٹکس فورس کو بھی گزشتہ کئی سالوں سے مطلوب تھی، ملزمہ کے خلاف اے این ایف میں دو مقدمات درج ہیں، پہلا مقدمہ یکم ستمبر 2019ء میں درج کیا گیا، 2019ء میں اے این ایف نے بلال چورنگی، کورنگی انڈسٹریل ایریا کراچی سے پنکی کے دو اہم کارندوں، نسیم بی بی اور محمد کامل کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا، ان ملزمان سے بھاری مقدار میں کوکین اور چرس برآمد ہوئی تھی اور انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ پنکی کی ایما پر منشیات سپلائی کر رہے تھے۔

بتایا جارہا ہے کہ انمول عرف پنکی برسوں سے مفرور تھی لیکن ایک ہفتہ قبل وفاقی حساس ادارے نے اسے لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن سے ڈیوائس لوکیٹر کی مدد سے گرفتار کیا، اے این ایف نے اب باقاعدہ طور پر ملزمہ کو اپنی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پرانے مقدمات میں اس سے تفتیش کی جا سکے اور اس کے بین الصوبائی نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔