فلسطینی بچوں پر اسرائیلی فوجی حملوں میں اضافہ، یونیسف

یو این منگل 12 مئی 2026 23:00

فلسطینی بچوں پر اسرائیلی فوجی حملوں میں اضافہ، یونیسف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 12 مئی 2026ء) مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور آباد کاروں کے حملوں میں بچوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان کارروائیوں میں بچوں کو آتشیں و تیز دھار اسلحہ اور مرچوں کے سپرے سے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے ترجمان جیمز ایلڈر نے بتایا ہے کہ بچوں پر حملے پہلے سے زیادہ منظم اور مربوط ہوتے جا رہے ہیں۔

ایسے شواہد موجود ہیں کہ بچوں کو گولیاں ماری گئیں، انہیں چاقوؤں کے وار کا نشانہ بنایا گیا، مارا پیٹا گیا اور ان پر مرچوں کا سپرے چھڑکا گیا۔

Tweet URL

جنوری 2025 سے اب تک تقریباً 70 بچے ہلاک اور 850 زخمی ہو چکے ہیں جن میں بیشتر کو براہ راست گولیاں لگیں۔

(جاری ہے)

اس طرح ہر ہفتے اوسطاً کم از کم ایک بچے کی ہلاکت ہوئی۔

ترجمان نے کہا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے وقت ہو رہا ہے جب آبادکاروں کے حملے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ مارچ 2026 میں گزشتہ 20 برسوں کے مقابلے میں سب سے بڑی تعداد میں فلسطینی شہری آبادی کاروں کے حملوں میں زخمی ہوئے۔

بچوں کے لیے خوف کا سفر

جیمز ایلڈر نے مغربی کنارے کے اپنے حالیہ دورے کے بعد ایک آٹھ سالہ فلسطینی بچے کا ذکر کیا جسے آبادکاروں کے حملے میں لکڑی کے ڈنڈوں سے بری طرح مارا پیٹا گیا جس کے نتیجے میں اسے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔

تشدد کے دوران اس کی والدہ نے اپنے چار ماہ کے ایک شیر خوار بچے کو بچانے کے لیے اسے اپنے بازوؤں سے ڈھانپ لیا اور حملہ آوروں کی جانب سے ڈنڈوں کے وار سے اس کے دونوں بازو ٹوٹ گئے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ مغربی کنارے میں سکولوں کی مسماری اور طلبہ کو گرفتار، زخمی اور ہلاک کرنے کے واقعات بھی پیش آ رہے ہیں۔ سکولوں کو بچوں کے لیے تحفظ اور استحکام کی جگہ ہونا چاہیے جو اب خوف کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دورے میں انہیں سکول جانے والے بچوں کو ممکنہ حملوں سے بچانے کے لیے ان کے ساتھ چلنا پڑا۔ یہ بچے سیدھا نہیں چلتے بلکہ ہر لمحہ پیچھے مڑ کر دیکھتے رہتے ہیں کہ کہیں کوئی ان پر حملہ نہ کر دے۔ اس طرح اب سکول جانے کا سفر خوف کے سائے میں طے ہوتا ہے۔

حراستیں اور عدم تحفظ

جیمز ایلڈر نے یہ بھی بتایا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بچوں کی گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اس وقت 347 فلسطینی بچے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی حراست میں ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ آٹھ برس میں سب سے زیادہ ہے۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں نصف سے زیادہ، یعنی 180 بچے انتظامی حراست میں رکھے گئے ہیں جہاں انہیں قانونی تحفظات میسر نہیں، وکلا تک رسائی حاصل نہیں اور نہ ہی انہیں اپنی حراست کو عدالت میں چیلنج کرنے کا موثر حق حاصل ہے۔

شدید جسمانی معذوری

جیمز ایلڈر نے بتایا کہ غزہ میں اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد اقوام متحدہ نے کم از کم 229 بچوں کی ہلاکت اور 260 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی نمائندہ ڈاکٹر وان ڈی ورٹ نے بتایا ہے کہ غزہ میں تقریباً 10 ہزار بچے شدید جسمانی معذوری کا شکار ہیں جو ان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہو گی۔

اکتوبر 2023 سے اب تک علاقے میں زخمی ہونے والے تقریباً ایک لاکھ 72 ہزار افراد میں سے 43 ہزار ایسے ہیں جنہیں انتہائی سنگین نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں جن میں ہاتھ پاؤں، ریڑھ کی ہڈی یا دماغ متاثر ہوا۔

اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی تقریباً 2,500 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

مصنوعی اعضا کی قلت

ڈاکٹر ورٹ نے کہا ہے کہ 2,277 زخمیوں کی جان بچانے کے لیے ان کے اعضا کاٹنا پڑے، تاہم ان میں 25 فیصد سے بھی کم کو مستقل مصنوعی اعضا فراہم کیے جا سکے ہیں کیونکہ غزہ میں ان کی شدید قلت ہے۔

وہیل چیئر اور مصنوعی اعضا سمیت بحالی صحت سے متعلق سامان کی 18 کھیپیں غزہ میں داخلے کے لیے اجازت کی منتظر ہیں۔ علاقے میں 50 ہزار سے زیادہ ایسے زخمی موجود ہیں جنہیں طویل المدتی طور پر بحالی صحت کی ضرورت ہے، مگر پورے علاقے میں بحالی کا کوئی مرکز فعال نہیں۔