لاہور کی ایک ایف آئی آر میں بھی انمول پنکی کا نام شامل، ملزمہ کے بھائی کے بیان نے پول کھولا

2022ء میں لاہور پولیس نے انمول پنکی کے بھائی ریاض بلوچ کو کارروائی کے دوران گرفتار کیا، ملزم ریاض بلوچ کے قبضے سے 1 ہزار 590 گرام منشیات برآمد ہوئی تھی؛ پولیس ذرائع

Sajid Ali ساجد علی بدھ 13 مئی 2026 12:56

لاہور کی ایک ایف آئی آر میں بھی انمول پنکی کا نام شامل، ملزمہ کے بھائی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2026ء) منشیات کے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے وہ گزشتہ کئی سالوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں میں تھی لیکن روپوش رہنے میں کامیاب رہی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد ریکارڈ کی چھان بین کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ کا نام لاہور میں درج ایک پرانے مقدمے میں پہلے ہی شامل تھا، یہ سراغ ملزمہ کے اپنے بھائی کے اعترافی بیان سے ملا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ یہ سلسلہ 2022ء میں اس وقت شروع ہوا جب لاہور پولیس نے انمول پنکی کے بھائی ریاض بلوچ کو کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا، ملزم ریاض بلوچ کے قبضے سے 1 ہزار 590 گرام منشیات برآمد ہوئی تو دورانِ تفتیش ریاض بلوچ نے اعتراف کیا تھا کہ وہ اپنی بہن انمول پنکی کے ساتھ مل کر یہ کاروبار کرتا ہے، اس وقت ملزمہ اپنے بھائیوں کے ہمراہ لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں رہائش پذیر تھی، تاہم وہ پولیس کے ہاتھ نہ آسکی، تاہم کوٹ لکھپت سے نواب ٹاؤن اور پھر کراچی سے ملک کے بڑے شہروں میں پھیلا یہ نیٹ ورک اب مکمل طور پر قانون کی گرفت میں ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس کی حساسیت اور ملزمہ کے بین الصوبائی تعلقات کے پیش نظر کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کو مزید تفتیش کے لیے وفاقی ادارے کے حوالے کیے جانے کا قوی امکان ہے، وفاقی ادارے اس بات کی تحقیق کریں گے کہ ملزمہ نے اتنے سالوں تک قانون سے بچنے کے لیے کن کن سہولتکاروں کا سہارا لیا۔