پاکستان کی ’والٹروائٹ‘ انمول پنکی کی کہانی ’بریکنگ بیڈ‘ کا دیسی ورژن

نیٹ فلکس کی فلمی سٹوری اور حقیقی جرم کی حیرت انگیز مماثلت نے سب کو چونکا کر رکھ دیا

Sajid Ali ساجد علی بدھ 13 مئی 2026 12:39

پاکستان کی ’والٹروائٹ‘ انمول پنکی کی کہانی ’بریکنگ بیڈ‘ کا دیسی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2026ء) دنیا کے معروف سٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس کی مشہورِ زمانہ سیریز 'بریکنگ بیڈ' میں ایک کیمسٹری ٹیچر 'والٹر وائٹ' حالات کے جبر میں آکر منشیات کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بن جاتا ہے، آج کل کراچی اور لاہور کی پولیس فائلز میں ایک ایسی ہی حقیقی کہانی گردش کر رہی ہے، جو انمول عرف پنکی کے نام سے سامنے آئی ہے، ان دونوں کرداروں میں مماثلت دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے سکرپٹ کسی فلمی سٹوڈیو میں نہیں بلکہ انمول پنکی کی اپنی لیبارٹری میں لکھا گیا ہو۔

مشہورِ زمانہ سیریز 'بریکنگ بیڈ' کا مین کردار والٹر وائٹ اپنی اعلیٰ معیار کی ’بلیو میتھ‘ کے لیے مشہور تھا اور اس نے ایک موبائل لیب بنا رکھی تھی، انمول پنکی نے بھی بالکل یہی طریقہ اپنایا، وہ ایک چلتی پھرتی فیکٹری تھی، جو خود کوکین بناتی تھی، اس کی تیار کردہ کوکین اتنی فائن کوالٹی کی تھی کہ وہ چند ہی سالوں میں پاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر بن گئی۔

(جاری ہے)

والٹر وائٹ ایک عام ٹیچر تھا، جبکہ انمول پنکی ایک عام لڑکی تھی جو ماڈل بننے کے خواب دیکھتی تھی، والٹر کو اس کے کینسر اور حالات نے جرم کی طرف دھکیلا، تو پنکی کو ڈانس پارٹیاں اور شوہر کا پیشہ ورانہ ساتھ اس کالے دھندے میں لے آیا، والٹر وائٹ کی طرح پنکی نے بھی جلد ہی اپنے کام میں اتنی مہارت حاصل کر لی کہ وہ ایک معمولی سپلائر سے بڑھ کر ایک برانڈ بن گئی۔

والٹر وائٹ کا مشہور جملہ تھا "I am the one who knocks" (خطرہ میں نہیں، میں خود خطرہ ہوں)، انمول پنکی نے بھی گرفتاری سے قبل پولیس کی عقل کو گھٹنوں میں قرار دے کر بالکل وہی تکبر دکھایا، اس کا یہ کہنا کہ "افسران ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے بتاتے ہیں کہ وہ مجھے نہیں پکڑ سکے"، بالکل والٹر وائٹ کے اس انداز کی یاد دلاتا ہے جہاں وہ قانون کی ناک کے نیچے اپنا نیٹ ورک چلاتا رہا۔

والٹر وائٹ نے اپنے بعد کام سنبھالنے کے لیے جیسی پنک مین کو تیار کیا، تو انمول پنکی نے بھی اپنی گرفتاری سے پہلے ہی ایک جانشین کا اعلان کر دیا تھا، اس نے اپنے گاہکوں کیلئے باقاعدہ ایک پیغام چھوڑا کہ "اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میرا دوست کام سنبھال لے گا"، یہ ایک خالص پروفیشنل مجرمانہ ذہنیت ہے جو صرف سکرین پر نظر آتی تھی۔ جس طرح ’بریکنگ بیڈ‘ کے آخر میں والٹر وائٹ کا غرور خاک میں مل گیا، اسی طرح انمول پنکی کا ناقابلِ تسخیر ہونے کا دعویٰ بھی ٹوٹ گیا، حساس اداروں نے اسے ڈیوائس لوکیٹر کے ذریعے ٹریس کرکے یہ ثابت کر دیا کہ حقیقت کی دنیا میں ’ہائزن برگ‘ جیسے کرداروں کا انجام صرف جیل کی سلاخیں ہی ہوتا ہے۔

والٹر وائٹ کے پاس ’سول گڈ مین‘ جیسا وکیل تھا، تو انمول پنکی کے پاس مبینہ طور پر سابق پولیس افسر شوہر اور بااثر حلقوں کی پشت پناہی تھی، فرق صرف اتنا ہے کہ والٹر وائٹ ایک خیالی کردار تھا، جبکہ انمول پنکی نے حقیقی زندگی میں سینکڑوں نوجوانوں کی رگوں میں زہر بھر کر اپنی ایمپائر کھڑی کر ڈالی، اس مماثلت کو دیکھتے ہوئے انمول عرف پنکی کو ’لیڈی والٹر وائٹ‘ اور ’پاکستان کی بریکنگ بیڈ‘ کا نام دیا جارہا ہے۔