اسرائیلی فوج کی لبنان میں چرچ کے تقدس کوپامال کرنے اور حضرت مسیح کے مجسمے کو توڑنے کے مجرم فوجیوں کو علامتی سزائیں

آئی ڈی ایف کے اہلکاروں نے جنوبی لبنان کے عیسائی اکثریتی علاقے میں چرچ کی بے حرمتی‘ مسیح علیہ اسلام کے مجسمے اور کراس کو کلہاڑے کے وار کرکے توڑ نے کی ویڈیوز اور تصاویر بناکر سوشل میڈیا پر جاری کی تھیں. رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ 13 مئی 2026 15:16

اسرائیلی فوج کی لبنان میں چرچ کے تقدس کوپامال کرنے اور حضرت مسیح کے ..
تل ابیب(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 مئی ۔2026 ) اسرائیلی فوج نے لبنان میں چرچ کے صحن میں نصب مسیح علیہ اسلام کے مجسمے کو کلہاڑے سے توڑنے کے مجرم فوجی کو مسیحیوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں آئی ڈی ایف کے اہلکار کو14دن قید کی علامتی سزا سنائی ہے جبکہ چرچ کی توہین کے الزام میں ایک دوسرے اہلکار کو21دن کی علامتی قید کی سزاسنائی گئی ہے.

(جاری ہے)

اسرائیلی فوج کی جانب سے سزا کو مذہبی آزادیوں اوردیگر تنظیموں میں شرمناک مذاق قراردیا ہے‘امریکی صحافیوں کی جانب سے بھی ان سزاﺅں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے ‘اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں فوجی اہلکار آئی ڈی ایف کے بیس میں علامتی طورپر قید میں رہیں گے یعنی انہیں کسی جیل میں منتقل نہیں کیا جائے گا‘اسرائیلی فوج نے ان اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں .

جنوبی لبنان کے عیسائی اکثریتی علاقے میں اسرائیلی فوجیوں نے نہ صرف چرچ کی بے حرمتی کی تھی اور عمارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا بلکہ چرچ کے احاطے میں موجود مسیح علیہ اسلام کے مجسمے اور عیسائی مذہب کی مقدس علامت کراس کو کلہاڑے کے وار کرکے توڑا تھا ‘اس کی ویڈیوز اور تصاویر بھی اسرائیلی فوجیوں نے خود سوشل میڈیا پر جاری کی تھیں جن میں سے ایک تصویر جس میں آئی ڈی ایف اہلکار مجسمے کو زمین پر گرا کر اس کے سرپر کلہاڑے سے وار کرتا دکھائی دے رہا ہے.

لبنان کے اس عیسائی اکثریتی علاقے پر اسرائیلی فوج نے مسلسل بمباری اور حملے کر کے دس لاکھ سے زائد لبنانیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا مجسمے کی توہین کے خلاف دنیا بھر میں مسیحیوں نے اپنی مذہبی حمیت کا اظہار سخت رد عمل کی صورت کیا تھاجس کے بعد اسرائیلی فوج کو اپنے اس جرم میں ملوث فوجیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرنا پڑا. اسرائیلی فوج نے اپنے دو فوجیوں کو بالترتیب 14 دنوں اور 21 دنوں کی علامتی سزائے قید سنائی جانے کی اطلاع کے بعد ان میں سے مجسمے پر حملے کی ویڈیو بنانے والا فوجی 14 دن جیل میں رہے گا جبکہ حضرت عیسیٰ کے مجسمے کی توہین اور مسیحی مذہب کی توہین کرنے والے فوجی کو جیل میں 21 دن گزارنا ہوں گے اس پر امریکی صحافیوں سے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کوئی عیسائی کسی یہودی عبادت گاہ کی بے حرمتی کرتا ہے تو کیا اسرائیلی حکومت یا اس کی حامی مغربی حکومتیں اسے بھی صرف دو سے تین ہفتوں کی علامتی سزا دیںگی؟ان کا کہنا ہے کہ یہ علامتی سزائیں محض مذاق ہیں اور بطورعیسائی وہ انہیں ردکرکے منصفانہ ٹرائل اور سخت سزاﺅں کا مطالبہ کرتے ہیں.