سوڈان کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے. امریکی مشیر برائے عرب وافریقی امور
سیاسی تصفیے کی کوششوں کو بحال کرنے اور بڑھتے ہوئے انسانی المیے کو روکنے کے لیے کام کیا جا سکتا ہے. مسعد بولس کا انٹرویو
میاں محمد ندیم
بدھ 13 مئی 2026
15:10
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ اس وقت بنیادی مسئلہ تنازع کے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے ارادے کا فقدان ہے جو بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباﺅ کے باوجود سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان برقرار دوری کی طرف اشارہ ہے امریکی عہدے دار نے واضح کیا کہ کسی حل تک پہنچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے انہوں نے اس کے مقابل اس بات کی بھی تاکید کی کہ امریکہ اپنے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر فریقین کو ایک پائے دار سیاسی تصفیے کی طرف دھکیلنے کے لیے اب بھی کام کر رہا ہے. مسعد بولس نے کہا کہ امریکہ سوڈان میں کسی بھی متوازی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا یہ موقف واشنگٹن کی جانب سے ان تمام اقدامات کی مخالفت کی عکاسی کرتا ہے جو اقتدار کی تقسیم یا ملک کے اندر سیاسی و جغرافیائی تقسیم کو ہوا دینے کا سبب بن سکتے ہیں یہ بیان حالیہ مہینوں کے دوران تنازع کے فریقین کے زیرکنٹرول بعض علاقوں میں الگ سیاسی اور انتظامی اقدامات کے بارے میں بڑھتی ہوئی گفتگو کے درمیان سامنے آیا ہے، جس نے سوڈانی ریاست کے بکھرنے کے منظر نامے کے حوالے سے بین الاقوامی خدشات کو جنم دیا ہے. مسعد بولس نے اس بات کی تصدیق کی کہ واشنگٹن اس وقت سوڈان کی وحدت کو برقرار رکھنے اور ہر اس راستے کی حمایت کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جو جنگ بندی اور سیاسی عمل کی واپسی کا باعث بنے عرب اور افریقی امور کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر نے انکشاف کیا کہ امریکہ کے پاس کئی ایسے آپشنز ہیں جنہیں سوڈان کے بحران کے حل کے لیے دباﺅڈالنے کی خاطر فعال کیا جا سکتا ہے تاہم انہوں نے ان آپشنز کی نوعیت یا ان کے استعمال کے وقت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا انہوں نے عام شہریوں تک انسانی امداد کی رسائی کو آسان بنانے کی اپیل کی اور اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے تسلسل اور متعدد علاقوں میں نقل مکانی اور فاقہ کشی کے پھیلاو¿ کے ساتھ سوڈان میں انسانی صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے. سوڈان کو دنیا کے بد ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا ہے کیونکہ اپریل 2023 سے جاری جنگ نے ہزاروں افراد کی جان لی ہے اور لاکھوں شہریوں کو بے گھر کر دیا ہے دوسری جانب اقوام متحدہ بنیادی خدمات کی مکمل تباہی اور قحط کے بڑھتے ہوئے خطرے سے خبردار کر رہی ہے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی اقدامات کے باوجود، فوجی کارروائیوں کے تسلسل اور تنازع کے دونوں فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کے باعث جنگ بندی کی کوششوں کو اب بھی بڑی مشکلات کا سامنا ہے.
مزید اہم خبریں
-
اقبال آفریدی کا بیٹے کے اقدام کا دفاع، خود بھی ملک چھوڑنے کی خواہش ظاہر کردی
-
ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے چین کی مدد کی ضرورت نہیں.صدرٹرمپ
-
دہلی اور کابل میں اس وقت کوئی تفریق نہیں، وزیر دفاع
-
ایران جنگ بندی کی کوششیں، قطر پس پردہ سفارت کاری میں متحرک
-
یورپی یونین کاتین اسرائیلی آباد کاروں اور حماس کی اہم شخصیات پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق
-
اسرائیلی فوج کی لبنان میں چرچ کے تقدس کوپامال کرنے اور حضرت مسیح کے مجسمے کو توڑنے کے مجرم فوجیوں کو علامتی سزائیں
-
امریکی شہریوں کی مشکلات سے زیادہ اہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے.ڈونلڈ ٹرمپ
-
فلائی دبئی کا لاہور، اسلام آباد اور پشاور کیلئے فضائی آپریشن غیر معینہ مدت تک معطل
-
ڈونلڈ ٹرمپ کے ”گولڈن ڈوم“ کی لاگت 1200 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے .کانگریس بجٹ دفترکا انکشاف
-
سوڈان کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے. امریکی مشیر برائے عرب وافریقی امور
-
عراق میں اسرائیل کے خفیہ فوجی اڈاے موجودگی اور صحرائی علاقے میں مسلح جھڑپوں کی اطلاعات
-
شی جن پنگ سے چین کو 'اوپن‘ کرنے کی درخواست کروں گا، ٹرمپ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.