عراق میں اسرائیل کے خفیہ فوجی اڈاے موجودگی اور صحرائی علاقے میں مسلح جھڑپوں کی اطلاعات
ایران کے حامی مسلح گروہوں نے آئی ڈی ایف کے ملک میں خفیہ ٹھکانوں کی نشاندہی کا آپریشن تیزکردیا
میاں محمد ندیم
بدھ 13 مئی 2026
15:04
(جاری ہے)
عراقی سکیورٹی فورسزکے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں اس علاقے میں کسی غیر ملکی فورس کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے ترجمان کے مطابق اس علاقے میں تلاشی کے لیے کارروائیاں کی گئیں تاہم وہاں کسی غیر ملکی یا غیر مجاز مسلح گروہ کی موجودگی سامنے نہیں آئی. انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں پانچ مارچ کو پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد کی گئیں جب کربلا کے قریب ایک صحرائی علاقے میں عراقی سکیورٹی فورسز کا ایک نامعلوم گروہ سے تصادم ہوا تھا جس میں ایک عراقی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے ان کا کہنا تھا کہ بعد میں کی جانے والی کارروائیوں میں نہ تو اس گروہ کا سراغ ملا اور نہ ہی اس سے منسلک کوئی سازو سامان یہ واقعہ 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے چند روز بعد پیش آیا تھا. وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ایک مقامی چرواہے نے علاقے میں غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع دی تھی جس کے بعد عراقی فورسز نے اس مقام کی طرف پیش قدمی کی لیکن اسی موقع پر اسرائیلی فورسز نے ان پر حملہ کر دیا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل نے امریکہ کے پرچم تلے یہ اڈا قائم کیا تھا اس میں خصوصی دستے بھی شامل تھے اور یہ اڈا اسرائیلی فضائیہ کے لیے ایک لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کرتا تھا . عراق کی مشترکہ آپریشنز کمانڈ نے ملک میں کسی بھی غیر مجاز فوجی اڈے یا غیر ملکی فورس کی موجودگی کی تردید کی ہے خصوصاً کربلا اور نجف کے صحرائی علاقوں میں اور کہا ہے کہ صحرائی اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کارروائیاں اور تلاشی کا عمل جاری ہے بیان کے مطابق پانچ مارچ کو عراقی سکیورٹی فورس کا نامعلوم غیر مجاز گروہوں سے تصادم ہوا جنہیں فضائی مدد حاصل تھی. عراقی ذرائع ابلاغ اور مقامی رپورٹ کے مطابق رکن پارلیمان محمد الخفاجی نے چار مارچ کو کہا تھا کہ جو چیز کربلا کے انتہائی مغرب میں لینڈ ہوئی وہ اب تک وہاں موجود دکھائی دیتی ہے انہوں نے کہا کہ عراقی فوج کا ایک دستہ جو تقریباً 30 گاڑیوں پر مشتمل تھا اس مقام کا جائزہ لینے کے لیے روانہ ہوا، تاہم اسے فضائی حملے اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک، دو زخمی ہوئے اور ایک گاڑی تباہ ہو گئی. انہوں نے کہا کہ مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے بیان میں کسی فریق کی نشاندہی نہیں کی گئی یہ واضح ہے کہ یہ ایک امریکی فورس تھی جس میں ہیلی کاپٹرز اور فوجی شامل تھے انہوں نے حکام سے اس معاملے پر سنجیدہ کارروائی کا مطالبہ کیا رکن پارلیمان ابو تراب التمیمی نے بھی ایک بیان میں کہا کہ مغربی عراقی صحرا میں مبینہ اسرائیلی فوجی اڈے کی موجودگی کی اطلاعات سکیورٹی کی سنگین ناکامی ہیں انہوں نے معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا. دوسری جانب قوت الحشد الشعبی اور عراقی سکیورٹی فورسز نے 12 مئی کو نجف اور کربلا کے صحرائی علاقوں میں وسیع سکیورٹی آپریشن شروع کیا ہے واضح رہے کہ قوت الحشد الشعبی عراق کی فوجی طرز پر تربیت یافتہ ایک فورس ہے، جو سکیورٹی کارروائیوں میں فوج کے ساتھ مل کر حصہ لیتی ہے اسے پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) بھی کہا جاتا ہے پی ایم ایف اور عراقی فورسز کی ان کارروائیوں کا مقصد صحرائی علاقوں میں سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور کنٹرول بڑھانا بتایا گیا ہے پی ایم ایف کے مطابق سکیورٹی فورسز نے الفاج کے مقام سے نجف کے صحرائی علاقوں کی جانب مختلف سمتوں میں پیش قدمی شروع کی ہے اور آپریشن کے دوران تقریباً 120 کلومیٹر علاقے کا جائزہ لیا جائے گا.
مزید اہم خبریں
-
اقبال آفریدی کا بیٹے کے اقدام کا دفاع، خود بھی ملک چھوڑنے کی خواہش ظاہر کردی
-
ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے چین کی مدد کی ضرورت نہیں.صدرٹرمپ
-
دہلی اور کابل میں اس وقت کوئی تفریق نہیں، وزیر دفاع
-
ایران جنگ بندی کی کوششیں، قطر پس پردہ سفارت کاری میں متحرک
-
یورپی یونین کاتین اسرائیلی آباد کاروں اور حماس کی اہم شخصیات پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق
-
اسرائیلی فوج کی لبنان میں چرچ کے تقدس کوپامال کرنے اور حضرت مسیح کے مجسمے کو توڑنے کے مجرم فوجیوں کو علامتی سزائیں
-
امریکی شہریوں کی مشکلات سے زیادہ اہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے.ڈونلڈ ٹرمپ
-
فلائی دبئی کا لاہور، اسلام آباد اور پشاور کیلئے فضائی آپریشن غیر معینہ مدت تک معطل
-
ڈونلڈ ٹرمپ کے ”گولڈن ڈوم“ کی لاگت 1200 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے .کانگریس بجٹ دفترکا انکشاف
-
سوڈان کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے. امریکی مشیر برائے عرب وافریقی امور
-
عراق میں اسرائیل کے خفیہ فوجی اڈاے موجودگی اور صحرائی علاقے میں مسلح جھڑپوں کی اطلاعات
-
شی جن پنگ سے چین کو 'اوپن‘ کرنے کی درخواست کروں گا، ٹرمپ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.