ڈونلڈ ٹرمپ کے ”گولڈن ڈوم“ کی لاگت 1200 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے .کانگریس بجٹ دفترکا انکشاف

یہ تخمینہ امریکی انتظامیہ کے سابقہ اعلانات سے کہیں زیادہ ہے‘سالانہ آپریشنل اور سپورٹ اخراجات کا اوسط تخمینہ 8.3 ارب ڈالر لگایا گیا ہے.رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ 13 مئی 2026 15:12

ڈونلڈ ٹرمپ کے ”گولڈن ڈوم“ کی لاگت 1200 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے .کانگریس ..
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 مئی ۔2026 ) امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کیے گئے میزائل دفاعی نظام ”گولڈن ڈوم“ کی لاگت دو دہائیوں کے دوران 1200 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے یہ تخمینہ امریکی انتظامیہ کے سابقہ اعلانات سے کہیں زیادہ ہے غیر جانب دار دفتر کی رپورٹ کے مطابق مجموعی لاگت میں سے ایک 1000 ارب ڈالر سے زائد کی رقم سسٹم کے حصول کے لیے مختص کی جائے گی جس میں میزائل روکنے والی تہیں وارننگ سسٹمز اور خلا سے نگرانی کا نظام شامل ہے.

(جاری ہے)

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ خلائی انٹرسیپشن سسٹم اس منصوبے کا سب سے مہنگا حصہ ہے، جو کہ خریداری کے اخراجات کا تقریباً 70 فی صد اور مجموعی متوقع اخراجات کا تقریباً 60 فی صد بنتا ہے رپورٹ کے مطابق اس رپورٹ میں سالانہ آپریشنل اور سپورٹ اخراجات کا اوسط تخمینہ 8.3 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جو اس نئے دفاعی منصوبے کے طویل مدتی مالی بوجھ کی عکاسی کرتا ہے.

صدرٹرمپ نے جنوری 2025 میں امریکی محکمہ دفاع ”پینٹاگان“ کو ایک جدید ترین میزائل دفاعی ڈھال بنانے کا منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی تھی، جسے شروع میں ”امریکہ کا آئرن ڈوم“ کا نام دیا گیا تھا جو بعد میں ”گولڈن ڈوم“ میں تبدیل ہو گیا مئی 2025 میں ٹرمپ نے اس منصوبے کے لیے 25 ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کی کل لاگت کا تخمینہ صرف 175 ارب ڈالر لگایا تھا جو بجٹ دفتر کے حالیہ تخمینوں سے بہت کم ہے.

بجٹ دفتر نے پہلے ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی ایک محدود تعداد کا مقابلہ کرنے والے خلائی انٹرسیپٹر میزائلوں کی لاگت 20 سال کے دوران 161 سے 542 ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے اس منصوبے کے مقاصد محض محدود حملوں کو روکنے تک محدود نہیں ہیں کیونکہ 2026 کی امریکی قومی دفاعی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگان بڑے پیمانے پر میزائلوں کی بوچھاڑ اور جدید فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ”کم لاگت“ والے موثر آپشنز تیار کرنے پر توجہ دے گا اگرچہ یہ منصوبہ ابھی منصوبہ بندی کے مراحل میں ہے لیکن یہ نئے تخمینے ان تکنیکی اور مالی چیلنجوں کی عکاسی کرتے ہیں جن کا سامنا امریکہ کو خلائی ٹیکنالوجی پر مبنی کثیر تہہ والے میزائل دفاعی نظام کی تعمیر میں کرنا پڑ سکتا ہے.