Live Updates

امریکی شہریوں کی مشکلات سے زیادہ اہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے.ڈونلڈ ٹرمپ

صدر کا مہنگائی کو جنگ کے ساتھ جوڑنے پر ناپسندیدگی کا اظہار ‘ میں امریکیوں کی مالی صورتحال کے بارے میں نہیں سوچ رہا.امریکی صدر کی گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ 13 مئی 2026 15:13

امریکی شہریوں کی مشکلات سے زیادہ اہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول ..
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 مئی ۔2026 ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ان کی اولین ترجیح ہے، چاہے امریکا کے اندر معاشی دباﺅ میں مزیداضافہ اور مہنگائی کی شرح بلند کیوں نہ ہو جائے اس سے قبل امریکی صدر امریکا میں تیل کی قیمت دس سے بارہ ڈالر فی گیلن ہونے کو بھی جنگ کی انتہائی کم قیمت قراردے چکے ہیں واضح رہے کہ جنگ کے آغازسے قبل امریکا میں پیٹرول کی قیمت ساڑھے تین ڈالر گیلن کے قریب تھی.

(جاری ہے)

پورے امریکا میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد روزمرہ ضرورت کی اشیاءکی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جبکہ ماہرین سپلائی چین متاثرہونے سے آنے والے دنوں میں غذائی اجناس سمیت مختلف اشیاءکی قلت کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں‘وائٹ ہاﺅس میں گفتگو کے دوران صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے جنگی اخراجات کے عوا م پر اثرات سے متعلق پو چھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے مہنگائی کو جنگ کے ساتھ جوڑنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے اور اس کے لیے وہ موجودہ معاشی دباﺅ کو معمولی”قیمت“سمجھتے ہیں.

ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ میں امریکیوں کی مالی صورتحال کے بارے میں نہیں سوچ رہا، میں صرف ایک چیز کے بارے میں سوچ رہا ہوں کہ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی انتظامیہ کو جنگ کے معاشی اثرات پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے خاص طور پر ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی دباﺅ کے باعث ریپبلکن پارٹی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے.

امریکی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں صارفین کی قیمتوں میں گزشتہ تین برسوں کے دوران سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجہ خلیج میں کشیدگی اور ایران کے ساتھ جنگ کے باعث پیٹرول اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں دوسری جانب ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی کے اندر سے بھی بڑھتے ہوئے دباﺅ کا سامنا ہے بعض ریپبلکن راہنماﺅں کو خدشہ ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور ممکنہ طور پر سینیٹ میں بھی اپنی اکثریت سے محروم کر سکتے ہیں.

صدر کے بیانات کی وضاحت کرتے ہوئے وائٹ ہاﺅس کے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشن اسٹیون چیونگ نے کہا کہ ٹرمپ کی حتمی ذمہ داری امریکی عوام کی سلامتی اور تحفظ ہے انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا تمام امریکیوں کے لیے خطرہ بن جائے گا اگرچہ ٹرمپ ایران کے جوہری خطرے پر مسلسل زور دے رہے ہیں تاہم امریکی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے درکار وقت میں گزشتہ موسم گرما کے بعد کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی اور ایران کا ایٹمی پروگرام ایک جگہ پر رکا ہوا ہے‘ٹرمپ کے سابق مشیر برائے انسداددہشت گردی جوکینٹ استعفے دینے کے بعد متعددانٹرویوزمیں کہہ چکے ہیں کہ ایران کی جانب سے امریکا کو کسی قسم کا کوئی براہ راست خطرہ لاحق نہیں تھا‘ان کے نزدیک ایران کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جنگ بلاجوازاور امریکی مفادات کے خلاف ہے.

ادھر امریکی ادارے نے تین مختلف ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہاکہ امریکی اندازے اب بھی یہی بتاتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے میں تقریباً نو ماہ سے ایک سال تک کا وقت درکار ہوگا، حتیٰ کہ موجودہ جنگ شروع ہونے کے دو ماہ بعد بھی صورتحال میں نمایاں فرق نہیں آیا دوسری جانب ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آ رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے تہران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکا اور مغربی ممالک ایران پر ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں.

امریکی صحافی اور تجزیہ نگار کھل کر اسے اسرائیل کی جنگ قراردیتے ہیں ‘صحافی وتجزیہ نگار کارلسن ٹکر‘مصنف وصحافی کرس ہیجز‘عالمی شہرت یافتہ ماہر عالمی امور پروفیسرجیفری سیکس‘شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر جان مئیرشیمرسمیت بیشترامریکی ماہرین اس جنگ کو امریکا اور عالمی معیشت کے لیے تباہ کن قراردے رہے ہیں ‘ان کے مطابق اسرائیل کے دباﺅ پر ٹرمپ نے ایران کے خلا ف غیرضروری جنگ میں امریکا کو ملوث کیا جس کی معاشی طورپر بہت بھاری قیمت عام امریکی شہریوں کو اداکرنا پڑرہی ہے.

ان کا الزام ہے کہ صدرٹرمپ ان کا خاندان اور ارب پتی دوست جنگ سے بھاری معاشی فوائد حاصل کررہے ہیںجبکہ عام امریکی کے لیے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہوتا جارہا ہے‘امریکی ماہرین کے مطابق تیل اور سٹاک ایکسچینج میں28فروری کے بعد ہونے والے غیرمعمولی اتارچڑھاﺅ سے امریکی صدرکے قریبی لوگوں نے کروڑوں ڈالر کمائے ہیں جنہیں ”ان سائیڈٹریڈنگ“کے الزامات کے تحت غیرقانونی قراردیا جاتا ہے اسی طرح جنگ کے معاشی دباﺅ کی وجہ سے امریکا میں عام شہریوں کے اندر غصہ بڑھ رہا ہے اور رواں سال نومبر میں صدرٹرمپ کی پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں شدید مشکلات کا سامنا ہوگا اور وہ سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت کھوسکتی ہے تاہم امریکی صدر عوامی ردعمل اور وسط مدتی انتخابات کے ممکنہ نتائج سے بے نیازنظرآتے ہیں.

یادرہے کہ اسرائیلی پارلیمان کے سابق سپیکر ابراہیم برگ روسی نشریاتی ادارے کے ساتھ انٹرویو میں واضح طورپر کہہ چکے ہیں کہ نیتن یاہو سیاسی فوائدحاصل کرنے کے لیے جنگ کو اکتوبرتک طول دینا چاہتے ہیں کیونکہ اسرائیل میں رواں سال اکتوبر میں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں ان کے مطابق نیتن یاہو کو اربوں ڈالر کی کرپشن کا سامنا ہے اور ان مقدمات میں ان کے خلاف شواہد اتنے مضبوط ہیں کہ انہیں لمبے عرصے کے لیے جیل جانا پڑسکتا ہے اسی وجہ سے وہ جنگ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں تاکہ جوازپیش کیا جاسکے کہ ملک ہنگامی حالت کا سامنا کررہا ہے اور اب تک اسی بنیاد پر وزیراعظم کے خلاف مقدمات کی مزید سماعت کو عدالتوں نے روکا ہوا ہے‘ابراہیم برگ کا کہنا تھا کہ حالت جنگ کے وزیراعظم کے طورپر انتخابات میں جاکر سیاسی فوائدحاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے وہ جنگ کو طول دینے سمیت کوئی بھی اقدام کرنے کو تیار ہیں. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات