اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 13 مئی 2026ء) قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور یہ خلیجی ریاست اس عمل میں ایک اہم پسِ پردہ کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں قطری وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے ایران، سعودی عرب، پاکستان، ترکی، کویت اور دیگر ممالک کے حکام سے رابطے کیے، جن میں خطے کی کشیدہ صورتحال اور تناؤ کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت کی گئی۔
امریکی
ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ ہفتے اور اختتامِ ہفتہ پر قطری وزیر اعظم نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وائٹ ہاؤس کے نمائندہ اسٹیو وٹکوف سے بھی ملاقاتیں کیں تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔(جاری ہے)
اگرچہ قطر نے بارہا کہا ہے کہ وہ ثالثی میں پاکستان کے مرکزی کردار کی مکمل حمایت کرتا ہے تاہم مبصرین کے مطابق دوحہ اپنی سفارتی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع کر رہا ہے۔
برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس سے وابستہ ماہر سانم وکیل کے مطابق قطر تہران اور واشنگٹن کے درمیان فاصلے کم کرنے میں خاموش مگر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے بقول قطر کے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور وہ ایک ثالثی کردار مؤثر انداز میں نبھا رہا ہے۔
واشنگٹن
میں قائم عرب گلف اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ کی ماہر اینا جیکبز کے مطابق قطر کو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا طویل تجربہ حاصل ہے اور وہ خلیجی سلامتی کی صورتحال کو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ گہرائی سے سمجھتا ہے۔قطر
کے لیے یہ ثالثی داخلی طور پر بھی اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے قطر کی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔ قطر دنیا میں مائع قدرتی گیس پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس کی تقریباً تمام برآمدات اسی بحری راستے سے ہوتی ہیں۔ایران
اور اسرائیل پر امریکی حملوں کے بعد ایران نے قطر میں واقع اہم گیس تنصیبات اور امریکی فوجی اڈے العدید کے قریب بھی حملے کیے تھے، جس کے بعد قطر کو مارچ میں گیس کی پیداوار عارضی طور پر روکنا پڑی۔ادھر برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار قطر سے پاکستان جانے والا مائع گیس بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہوا۔ بعد ازاں ایک دوسرے گیس بردار جہاز کی بھی پاکستان روانگی کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران نے اس ترسیل کی اجازت ثالثی کرنے والے ممالک قطر اور پاکستان کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے دی۔
قطر
کئی دہائیوں سےسفارت کاری اور ثالثی کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بنائے ہوئے ہے۔ دوحہ کے امریکہ، ایران، طالبان، حماس اور دیگر علاقائی قوتوں کے ساتھ روابط اسے خطے میں منفرد حیثیت دیتے ہیں۔تاہم ماہرین کے مطابق اصل فیصلہ اب بھی امریکہ اور ایران کے ہاتھ میں ہے، اور موجودہ بحران کے خاتمے کی راہ ابھی طویل دکھائی دیتی ہے۔
برطانوی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کی ماہر برجو اوزجیلک کے مطابق ثالثی کی موجودہ کوششیں ایک مشکل مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، کیونکہ یہ تنازع صرف علاقائی سفارت کاری سے حل ہوتا نظر نہیں آتا۔
ان کے بقول کسی بھی مستقبل کے امریکہ ایران معاہدے کے پائیدار ہونے کے لیے خلیجی ممالک کی حمایت اور ان کے مفادات کا تحفظ ناگزیر ہو گا۔
ادارت: جاوید اختر