Live Updates

شی جن پنگ سے چین کو 'اوپن‘ کرنے کی درخواست کروں گا، ٹرمپ

DW ڈی ڈبلیو بدھ 13 مئی 2026 15:00

شی جن پنگ سے چین کو 'اوپن‘ کرنے کی درخواست کروں گا، ٹرمپ
  • صدر ٹرمپ ایران جنگ بندی کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے مطمئن
  • شی جن پنگ سے چین کو 'اوپن‘ کرنے کی درخواست کروں گا، ٹرمپ

صدر ٹرمپ ایران جنگ بندی کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے مطمئن

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ ختم کرانے کے سلسلے میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں سے مطمئن ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے تناظر میں آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے ایئربیسز پر جگہ دی۔ پاکستان نے اس رپورٹ کو ’بے بنیاد‘ اور ’سنسنی پر مبنی‘ قرار دیا تھا۔

(جاری ہے)

چین کے دورے پر روانگی سے قبل صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے پاکستان کے ثالثی کے کردار سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ پاکستانیوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔

فیلڈ مارشل اور پاکستان کے وزیر اعظم دونوں ہی شاندار رہے ہیں۔‘‘

جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ بطور ثالث پاکستان کے کردار پر نظرثانی کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟

اس پر صدر ٹرمپ نے کہا ’’نہیں، میرے خیال میں وہ بہت شاندار کام کر رہے ہیں۔‘‘

ٹرمپ کی جانب سے یہ اہم بیان منگل، 12 مئی، کو امریکی کانگریس میں ہونے والی ایک اہم سماعت کے بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی کانگریس میں ہونے والی سماعت کے دوران امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے وزیر دفاع سے سوال کیا تھا کہ آیا وہ ان رپورٹس سے باخبر ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے دوران پاکستان نے ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جگہ دی ہے؟


شی جن پنگ سے چین کو ’اوپن‘ کرنے کی درخواست کروں گا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین روانگی کے دوران ایئر فورس ون سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’میں صدر شی، جو ایک غیر معمولی حیثیت کے حامل رہنما ہیں، سے درخواست کروں گا کہ وہ چین کو 'کھولیں' تاکہ یہ باصلاحیت لوگ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں اور عوامی جمہوریہ چین کو مزید بلند سطح تک لے جا سکیں!‘‘

ٹرمپ کے مطابق ’یہ باصلاحیت لوگ‘ وہ امریکی کاروباری رہنما ہیں، جو اس دورے میں ان کے ہمراہ ہیں۔

وفد میں اپیل کے سی ای اور ٹم کک اور ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک جیسے سرمایہ دار شامل ہیں۔

دونوں عالمی رہنماؤں کے درمیان ملاقات ایک نہایت اہم وقت پر ہو رہی ہے، جب دنیا ایران کے ساتھ جنگ، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، تجارت اور مصنوعی ذہانت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ روانگی سے قبل وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا،’’ہم دو سپر پاورز ہیں، فوجی طاقت کے لحاظ سے ہم دنیا کی سب سے مضبوط قوم ہیں، جبکہ چین کو دوسرے نمبر پر سمجھا جاتا ہے۔

‘‘

ٹرمپ اس دورے کے دوران چین کے ساتھ ایسے معاہدے کرنا چاہتے ہیں جن کے تحت چین زیادہ امریکی خوراک اور طیارے خریدے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ اس بارے میں بات کریں گے۔

تاہم یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب ایران کا معاملہ ٹرمپ کے داخلی ایجنڈے پر حاوی ہے۔ اس جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بند ہو چکی ہے، جس سے تیل اور قدرتی گیس کے ٹینکرز پھنس گئے ہیں اور توانائی کی قیمتیں اس حد تک بڑھ گئی ہیں جو عالمی اقتصادی ترقی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ایران کے معاملے میں کسی مدد کی ضرورت ہے۔ ہم کسی نہ کسی طرح سے جیت جائیں گے، چاہے پُرامن طریقے سے یا کسی اور انداز میں۔‘‘

خیال رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی گزشتہ ہفتے بیجنگ میں موجود تھے۔

تائیوان اور تجارت ایجنڈے میں سرفہرست

تائیوان بھی ٹرمپ کے اس دورے کا ایک اہم موضوع ہو گا۔

کیونکہ چین امریکہ کے اس منصوبے سے ناخوش ہے، جس کے تحت وہ اس خودمختار جزیرے کو ہتھیار فروخت کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ چینی حکومت تائیو‍ن کو اپنے علاقے کا حصہ قرار دیتی ہے۔

ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان کے لیے 11 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے پیکیج پر بات کریں گے، جس کی منظوری امریکی انتظامیہ نے دسمبر میں دی تھی لیکن اس پر ابھی عملدرآمد شروع نہیں ہوا۔

امریکی صدر نے تائیوان کے حوالے سے نسبتاً محتاط رویہ دکھایا ہے، جس سے یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا ٹرمپ اس جمہوری جزیرے کی حمایت میں کمی کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار ’پیپلز ڈیلی‘ نے منگل کو ایک سخت اداریہ شائع کیا، جس میں زور دیا گیا کہ تائیوان ’’چین-امریکہ تعلقات میں وہ پہلی سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا‘‘ اور یہ دونوں ممالک کے درمیان ’’سب سے بڑا خطرے کا نقطہ‘‘ ہے۔

ادارت: جاوید اختر

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات