یورپی یونین کاتین اسرائیلی آباد کاروں اور حماس کی اہم شخصیات پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق

یورپی یونین کا فیصلہ غیرمنصفانہ ہے‘فیصلے میں حماس کو صرف”بیلنس“قائم رکھنے کے لیے شامل کیا گیا ہے جو پہلے ہی بڑے پیمانے پر یورپی یونین اور دیگر عالمی اداروں کی پابندیوں کا شکار ہے. مشرق وسطی امورکی تنظیموں کا ردعمل

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ 13 مئی 2026 15:18

یورپی یونین کاتین اسرائیلی آباد کاروں اور حماس کی اہم شخصیات پر پابندیاں ..
برسلز/نیویارک(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 مئی ۔2026 ) یورپی یونین نے اسرائیلی آباد کاروں اور حماس کی اہم شخصیات پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کر لیا یہ فیصلہ رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ہوا، جس کے بعد قبضے میں ملوث 3 افراد اور 4 تنظیموں کے اثاثے منجمد اور سفری پابندیاں عائد کی جا سکیں گی. مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر اسرائیلی آباد کاروں کے خلاف اقدامات میں ہنگری کی Viktor Orban کی حکومت رکاوٹ تھی تاہم نئی حکومت نے ویٹو ختم کر دیا ادھر بیت المقدس کے علاقے میں اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں کی 3 سے زائد دکانیں اور صنعتی تعمیرات گرا دیں.

(جاری ہے)

دوسری جانب پاک امریکا اسٹڈی سینٹراور مڈل ایسٹ آئی سمیت دیگر اداروں نے یورپی یونین کے فیصلے کو غیرمنصفانہ قراردیا ہے انہوں نے کہاکہ فیصلے میں حماس کو صرف”بیلنس“قائم رکھنے کے لیے شامل کیا گیا ہے جو پہلے ہی بڑے پیمانے پر یورپی یونین اور دیگر عالمی اداروں کی پابندیوں کا شکار ہے جبکہ پابندیوں میںصرف چند اسرائیلی آباد کاروں کو شامل کیا گیا ہے جو ایک علامتی اقدام ہے .

انہوں نے کہاکہ یونین نے تحقیقات کے لیے کوئی کوشش نہیں کی حالانکہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ انکشاف کرچکے ہیں کہ بلاتفریق مذہب عرب فلسطینیوں جن میں مسلمان‘عیسائی اور یہودی شامل ہیں ان کی زمینوں پر مغربی ممالک کی شہریت رکھنے والے یہودیوں کی کمپنیاں قبضے کرکے یورپ اور دیگر ممالک سے آنے والوں کو فروخت کررہی ہے . انہوں نے کہاکہ دنیا میں کہیں پر بھی علاقے کے اصل باشندوں کو اس طرح سے بے دخل کرکے ان کی جائیدادوں پر قبضوں ‘انہیں غیرقانونی وغیراخلاقی طورپر الاٹ یا فروخت نہیں کیا جاتا تاہم اسرائیل میں بڑے پیمانے پر یہ کام نیتن یاہو حکومت کی سرپرستی میں ہورہا ہے جبکہ یونین کے کئی رکن ممالک کی کمپنیاںاس کے لیے فنڈزفراہم کررہی ہیں .

انہوں نے اقوام متحدہ‘یورپی یونین اور عالمی برادری سے غیرجانبدرانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ کسی ایک مذہب کا نہیں ہے بلکہ محض عرب قومیت کی بنیاد پر یورپ‘امریکااور دنیا کے دیگر حصوں سے جانے والے یہودی مذہب کے لوگ عرب فلسطینیوں کی جائیدادوں پر قبضے کے لیے انہیں قتل تک کررہے ہیں ‘ان علاقوں میں عرب عیسائی کے کئی قدیم چرچ اور ان سے منسلک جائیدادوں کو تباہ کیا گیا اسی طرح سینکڑوں عیسائی عرب خاندانوں کو ان کی جائیدادوں سے بیدخل کرکے ان پر قبضہ کیا گیا لہذا یہ محض مسلمانوں کا معاملہ نہیں ہے.