،ْثقافتی ورثے کی واپسی، امریکہ نے 450 سے زائد نایاب نوادرات باضابطہ طور پر پاکستان کے حوالے کر دیے

…پاک-امریکہ تعاون، اسمگل شدہ تاریخی اثاثوں کی واپسی، 4 ہزار سال پرانے مجسمے اب اسلام آباد میوزیم کی زینت بنیں گے

جمعرات 14 مئی 2026 04:55

\اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 مئی2026ء) امریکہ نے اسلام آباد میوزیم میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران 450سے زیادہ نوادرات باضابطہ طور پر پاکستان کے حوالے کیے۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کی جانب سے نوادرات کی غیر قانونی اسمگلنگ سے نمٹنے اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔واپس بھیجے گئے نوادرات کے مجموعے میں اہم تاریخی اشیا ء شامل ہیں جنہیں غیر قانونی طور پر پاکستان سے باہر لے جایا گیا اور بعد میں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی حکام کے درمیان قریبی تعاون کے ذریعے شناخت کرکے برآمد کیا گیا تھا۔

اب یہ نمونے پاکستان میں محفوظ ہوں گے اور نمائش کے لئے رکھے جائیں گے جس سے اہل دانش اور عوام کو ملک کی ثقافتی میراث کے ایک اہم حصے سے دوبارہ جڑنے کا موقع ملے گا۔

(جاری ہے)

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون امریکی وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ایس پال کپور نے کہا کہ یہ نمونے پاکستان کی تاریخ کے اٴْن ابواب کی نمائندگی کرتے ہیں جو نسلوں کو اٴْن کے ورثے سے جوڑتے ہیں۔

ان نمونوں میں ٹیراکوٹا کے مجسمے بھی شامل ہیں جو چار ہزار سال سے زیادہ پرانے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان میں سے ہر چیز ایک کہانی سناتی ہے۔ اور ان میں سے ہر چیز کا تعلق پاکستانی عوام سے ہے۔ اور اب وہ اپنے گھر میں ہے۔خیال رہے کہ مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس کے نوادرات کے انسداداسمگلنگ یونٹ (اے ٹی یو)نے یہ تمام اشیا ء برآمد کی ہیں۔ ڈسٹرکٹ اٹارنی ایلون بریگ نے اے ٹی یو کی جانب سے اسمگلنگ نیٹ ورکس ،جن میں غیر ملکی جرائم پیشہ تنظیمیں بھی شامل ہیں ، کے خلاف تحقیقات کے بعد ان اشیا ء کی پاکستان واپسی کا اعلان کیا۔

پچھلے دس سالوں میں اے ٹی یو نے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے تعاون سے تقریباً 23 ملین ڈالر مالیت کے 514 نوادرات برآمد کرکے پاکستان کو واپس بھجوائے ہیں۔ یہ اشیاء بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف فوجداری تحقیقات کے بعد ضبط کی گئیں۔ آج کی یہ تقریب ریاستہائے متحدہ امریکہ کی مختلف سرکاری ایجنسیوں کی نمائندگی کرتی ہے جو ایک محفوظ اور مضبوط قوم بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

برآمد ہونے والے نوادرات میں دوسری صدی عیسوی کا بدھا پاڈا کا ایک نایاب مجسمہ بھی شامل ہے جس کی مالیت گیارہ لاکھ ڈالر تھی، اور اسے 1980 ء کی دہائی میں پاکستان سے چُرا کر نیویارک لے جایا گیا تھا۔ دیگر اہم برآمد شدہ اشیاء میں گندھارن کا ایک فرائز ،جس میں بدھ مت کے مجسموں کو دکھایا گیا ہے، قدیم مہرگڑھ ٹیراکوٹا کی2600-3500 قبل مسیح کے مجسمے ، اور بودھی ستوا میتریہ کا مجسمہ شامل ہیں۔

ضبط کئے جانے والے نوادرات میں85-105 قبل مسیح کا ایک گولڈ اسٹراٹو کا سکہ بھی شامل ہے جو 2023 ء میں برآمد ہوا۔ ان کوششوں کے نتیجے میں متعدد افراد کو سزائیں بھی ملیں جس سے نوادرات کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خاتمے کیلئے جاری بین الاقوامی تعاون اجاگر ہوا۔پاکستانی حکام نے نوادرات کی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک کی بھرپور اور متنوع تاریخ کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے امریکی تعاون کی ستائش کی اور ثقافتی املاک کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ان اشیا ء کی وطن واپسی قانون کے نفاذ، ثقافتی تحفظ اور ورثے کی حفاظت کیلئے امریکہ اور پاکستان کے درمیان وسیع تر تعاون کی نشاندہی کرتی ہی