سیاچن ، معرکہ چمک آپریشن کا 37 برس مکمل

لیفٹیننٹ نوید الرحمن ایک ساتھی کے ساتھ ہیلی کاپٹر سلنگ کے ذریعے 25 ہزار فٹ کی بلندی پر اتارے اور دشمن کو ناکام بنایا

جمعرات 14 مئی 2026 05:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2026ء) دنیا کے بلند ترین محاذِ جنگ سیاچن کی تاریخ کے اہم معرکہ چمک آپریشن کو 37 سال مکمل ہو گئے،اس تاریخی معرکے میں پاک فوج کے بہادر سپوتوں نے جرات، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کی نئی مثال قائم کی۔تفصیلات کے مطابق 1989 کے اوائل میں بھارتی فوج نے سیاچن کی اہم ترین بلند اسٹریٹجک چوٹیوں پر قبضہ کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا تاہم پاک فوج کے جوانوں نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔

سخت موسمی حالات میں اپریل 1989 کو لیفٹیننٹ نوید الرحمن کو ہیلی کاپٹر سلنگ کے ذریعے 25 ہزار فٹ کی بلندی پر اتارا گیا، جہاں انہوں نے محض ایک سپاہی کے ہمراہ دشمن کی مذموم سازش کو ناکام بنایا۔13مئی 1989 کو بھارت نے شکست تسلیم کرتے ہوئے جنگ بندی کی درخواست کی، جس کے بعد بھارتی فوج کو اپنی سابقہ پوزیشنز پر واپس جانا پڑا۔

(جاری ہے)

میجر (ر)نوید الرحمن ستارہ جرت نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے دنیا کی سب سے بلند پوسٹ 21 ہزار 400 فٹ کی بلندی پر قائم کی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے چمک آپریشن کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا اور انتہائی سخت حالات میں ازلی دشمن بھارت کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔لیفٹیننٹ جنرل (ر)ایاز احمد نے کہا کہ پاک فوج نے بہترین حکمت عملی کے باعث مشکل ترین برفانی محاذ پر بھارت کو سیز فائر کی درخواست پر مجبور کر دیا۔میجر جنرل (ر)محمد فاروق ملک ہلال امتیاز ملٹری نے کہا کہ بطور پلاٹون کمانڈر انہوں نے میجر نوید الرحمن میں لڑنے کا جذبہ دیکھا، جس کا چمک آپریشن میں عملی مظاہرہ ان کے لیے باعث فخر ہے۔

چمک آپریشن کے غازیوں کو بے مثال بہادری کے اعتراف میں ستارہ جرت سے نوازا گیا جبکہ مادرِ وطن کے بہادر سپوت آج بھی اس بلند ترین جنگی محاذ پر سبز ہلالی پرچم کی سربلندی اور دفاع وطن کے مقدس فریضے کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔