اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 مئی2026ء)
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے ضبط کی گئی 2 ہزار خصوصی خشک دودھ (سمکڈملک) کی بوریوں کی ضبطی اور نیلامی میں مبینہ بے ضابطگیوں بارے
ایف بی آر کو جامع تحقیقات کر کے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، چیئرمین کمیٹی نے
ایف بی آر کو غائب شدہ چاندی کی برآمدگی یقینی بنانے اور ملوث فائدہ اٹھانے والوں کی نشاندہی کے حوالہ سے جامع رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔
قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس جمعرات کویہاں چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مالیاتی، انتظامی اور ریگولیٹری امور کے وسیع دائرہ
کار پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں
پاکستان خودمختار ویلتھ فنڈ (ترمیمی) بل 2026، سرکاری ملکیتی اداروں (ایس اوایز) سے متعلق معاملات، سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشوارے، کسٹمز انفورسمنٹ سے متعلق امور اور ضبط شدہ سامان میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تفصیلی بحث کی گئی۔
(جاری ہے)
کمیٹی کوپاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی جانب سے
سینیٹ آف
پاکستان کے ساتھ مجوزہ غیر پابند مفاہمتی یادداشت سے متعلق بریفنگ دی گئی جس کا مقصد منظم رابطے، استعداد
کار میں اضافہ اور قانون سازی سے متعلق تحقیقی معاونت کو فروغ دینا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مجوزہ مشاورتی نظام
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو مالیاتی قوانین کا تجزیہ کرنے اور ڈیجیٹل کرنسی، سائبر سکیورٹی اور دیگر ابھرتے ہوئے مالیاتی امور سے متعلق قانون سازی کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔
چیئرمین کمیٹی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجوزہ تعاون سے باخبر فیصلہ سازی اور ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط ہو گی۔کمیٹی نے کسٹمز انفورسمنٹ
کراچی کی جانب سے ضبط کی گئی 2 ہزار خصوصی خشک دودھ (سمکڈملک) کی بوریوں کی ضبطی اور نیلامی میں مبینہ بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لیا۔ اراکین کو بتایا گیا کہ اگرچہ 2 ہزار بوریاں ضبط کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تاہم ایف آئی آر میں صرف 1,750 بوریاں درج کی گئیں جبکہ 250 بوریاں لاپتہ رہیں۔
کسٹمز حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سامان ایک جعلی اور ردوبدل شدہ گڈز ڈیکلریشن کی بنیاد پر ضبط کیا گیا تھا، کسٹمز قوانین کے تحت خراب ہونے والی اشیاء کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے فوری طور پر نیلام کیا جا سکتا ہے۔ معاملہ اس وقت کسٹمز
عدالت میں زیر
سماعت ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے
ایف بی آر کو جامع تحقیقات کر کے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے سپر ٹیکس اور اس کے
معاشی سرگرمیوں اور کاروباری اعتماد پر وسیع اثرات پر بھی غور کیا۔ اراکین نے
ایف بی آر کی تحویل میں موجود ضبط شدہ سامان میں مبینہ چوری اور بدانتظامی بشمول
ایف بی آر کے گوداموں میں آگ لگنے کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ محرک کی درخواست پر 2 ہزار سکمڈ ملک کی بوریوں کا معاملہ تفصیلی جائزے کے لیے
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد
منشیات کی متعلقہ ذیلی کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔
کمیٹی نے کسٹمز حکام کی جانب سے ضبط کی گئی چاندی کی ترسیل کے دوران اس کے غائب ہونے کے معاملے پر بھی غور کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ
بلوچستان میں مختلف مقدمات میں تقریباً 698 کلوگرام چاندی ضبط کی گئی تھی تاہم ترسیل کے دوران معلوم ہوا کہ کھیپ میں مبینہ طور پر صرف 298 کلوگرام چاندی موجود تھی جبکہ باقی 400 کلوگرام سیسہ تھا۔ کسٹمز حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ بظاہر یہ اندرونی افراد کی کارروائی معلوم ہوتی ہے اور اس سلسلے میں ایف آئی اے نے پہلے ہی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے
ایف بی آر کو ہدایت کی کہ غائب شدہ چاندی کی برآمدگی یقینی بنائی جائے، ملوث فائدہ اٹھانے والوں کی نشاندہی کی جائے اور ایک جامع رپورٹ پیش کی جائے،اس معاملے کو بھی مزید تحقیقات کے لیے قائمہ کمیٹی داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔کمیٹی نے وزارت خزانہ و محصولات کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والے سرکاری ملکیتی اداروں، ریگولیٹری باڈیز، منسلک محکموں اور ماتحت دفاتر کے سربراہان کے نام، ڈومیسائل، تقرری کے طریقہ
کار، مدت
ملازمت، تنخواہوں اور مراعات سے متعلق سوال کا بھی جائزہ لیا ۔
اراکین نے مطلوبہ معلومات کی فراہمی میں تاخیر پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان اداروں کے سربراہان کو دی جانے والی مراعات اور سہولیات کی مالیت مبینہ طور پر 2 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت کو ہدایت دی کہ مکمل اور تسلی بخش جوابات فراہم کیے جائیں، بصورت دیگر متعلقہ رکن استحقاق کی تحریک پیش کر سکتا ہے۔ اجلاس کے دوران اراکین نے
ایف بی آر کی جانب سے مبینہ طور پر اراکینِ
پارلیمنٹ کو جاری کیے گئے نوٹسز پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
چیئرمین کمیٹی نے اراکین کو ہدایت کی کہ ایسے نوٹسز ان کے پاس بھیجے جائیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ کہیں کوئی غیر ضروری یا نامناسب کارروائی تو نہیں کی گئی۔ کمیٹی نے سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشواروں کی صورتحال پر بھی غور کیا۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے سول سرونٹس کنڈکٹ رولز میں ترمیم کی ہے اور
ایف بی آر پلیٹ فارم کے ذریعے اثاثہ جات کے گوشواروں کے نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے اور ذاتی رازداری کے تحفظ کے لیے گوشواروں کو مخصوص معلومات حذف کر کے عوامی رسائی کے لیے دستیاب کیا جائے گا۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے مزید واضح کیا کہ اثاثہ جات کے گوشواروں اور انکم ٹیکس ریٹرنز کے مقاصد مختلف نوعیت کے ہیں اور ان پر الگ الگ قانونی فریم ورک لاگو ہوتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ نظرثانی شدہ کنڈکٹ رولز تفصیلی جائزے اور ممکنہ بہتری کے لیے کمیٹی کے ساتھ شیئر کئے جائیں۔
انہوں نے پارلیمنٹیرینز کے لیے
الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے امکان پر بھی غور کرنے کی تجویز دی تاکہ اثاثہ جات کے گوشوارے
الیکشن کمیشن کو جمع کرانے کے حوالے سے بہتری لائی جا سکے۔ اجلاس میں
پاکستان خودمختار ویلتھ فنڈ (ترمیمی) بل 2026 پر بھی غور کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے آئندہ مالی سال کے
بجٹ سازی کے عمل کے دوران مجوزہ ترامیم کے وقت اور ان کے وسیع اثرات پر سوال اٹھایا۔
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ان ترامیم کا مقصد سرکاری ملکیتی اداروں کی گورننس، انتظامی کارکردگی اور مینجمنٹ کو بہتر بنانا ہے اور ان کا
وفاقی بجٹ کے عمل سے براہ راست تعلق نہیں تاہم کمیٹی اراکین نے حکومتی ترقیاتی فنڈنگ میں تاخیر پر تشویش ظاہر کی اور خبردار کیا کہ مجوزہ ترامیم سے سرکاری ملکیتی ادارے متاثر نہیں ہونے چاہییں۔ مزید بتایا گیا کہ ان ترامیم کے تحت پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کو ایس اوایزکی کارکردگی سے متعلق لازمی بریفنگ دینے کی تجویز شامل ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے بل پر مزید غور آئندہ اجلاس تک موخر کرتے ہوئے وزارت کو ہدایت دی کہ ہر مجوزہ ترمیم کی شق وار وجوہات اگلے اجلاس سے قبل جمع کرائی جائیں۔ اجلاس میں محمدطلحہ محمود،محمدعبدالقادر جبکہ دانش کماراورجان محمدنے ایجنڈا آئٹمز کے محرکین کے طور پر شرکت کی۔ اس کے علاوہ سینیٹرافنان اللہ خان خصوصی طور پر اجلاس میں شریک ہوئے۔