چین پر واضح کردیا کہ تائیوان مسئلے پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی

امریکا کا ماننا ہے کہ طاقت کے ذریعے اس مقصد کا حصول خوفناک غلطی ہوگی۔ امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 14 مئی 2026 20:58

چین پر واضح کردیا کہ تائیوان مسئلے پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی ..
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 14 مئی 2026ء ) امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیونے کہا ہے کہ چین پر واضح کردیا کہ تائیوان مسئلے پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کی چینی ہم منصب سے ملاقات میں تائیوان مسئلے پر بات ہوئی ہے، تائیوان پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔

تائیوان سے متعلق امریکا نے چین پر اپنا مئوقف واضح کردیا ہے، چینی صدر نے کہا کہ چین سے تائیوان کا دوبارہ الحاق ناگزیر ہے۔ امریکا کا ماننا ہے کہ طاقت کے ذریعے اس مقصد کا حصول خوفناک غلطی ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ یہ واضح ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے میں چین کی بڑی دلچسپی ہے، چینی صدر آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں ،چینی صدر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے مدد کی پیشکش کی ہے۔

(جاری ہے)

مزید برآں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں امریکی اور چینی صدور کے درمیان خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی جس میں صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین اور امریکا کو ایک دوسرے کا حریف بننے کی بجائے شراکت دار بننا چاہیے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی کامیابی اور خوشحالی میں مدد کرنی چاہیے اور نئے دور میں ایک دوسرے کے ساتھ اچھے طریقے سے چلنے کا صحیح راستہ تلاش کرنا چاہیے ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور چین کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہوں گے اور وہ اپنے ساتھ دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں کو لے کر آئے ہیں۔

شنہوا کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات جمعرات کی صبح بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں ہوئی۔ نیوزایجنسی کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا میں رونما ہونے تبدیلیوں کی رفتار اس قدر تیز ہو چکی ہے جو گزشتہ ایک صدی کے دوران نہیں دیکھی گئی، بین الاقوامی صورتحال تیزی سے بدلتی ہوئی اور ہنگامہ خیز ہے، دنیا ایک دوراہے پر آچکی ہے ۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا تھیوسی ڈائڈز کے جال ( ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر گراہم ایلیسن کا پیش کردہ نظریہ کہ تاریخی طور پر کسی موجود بڑی طاقت اور ابھرتی ہوئی طاقت میں تصاد م کے نتیجے میں اکثر جنگ ہوتی ہے  ) میں آنے سے بچ سکتے ہیں اور بڑے ممالک کے تعلقات کا ایک نیا نمونہ تشکیل دے سکتے ہیں، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور دنیا کو زیادہ استحکام فراہم کر سکتے ہیں، کیا ہم دونوں لوگوں کی بھلائی اور انسانیت کے مستقبل کے مفاد میں اپنے دوطرفہ تعلقات کے لیے مل کر ایک روشن مستقبل بنا سکتے ہیں، دونوں ممالک کو ان سوالات کا مل کر جواب دینے کی ضرورت ہے ۔

چینی صدر نے کہا کل ہماری اقتصادی اور تجارتی ٹیموں کی ملاقاتوں کے عمومی طور پر متوازن اور مثبت نتائج برآمد ہوئے ، یہ دونوں ممالک اور دنیا کے لیے اچھی خبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقائق نے بار بار ثابت کیا ہے کہ تجارتی جنگوں کا کوئی فاتح نہیں ہوتا، اختلاف رائے اور تصادم کی صورتحال میں برابری کی سطح پر مشاورت ہی صحیح انتخاب ہے ۔ا ن کا کہنا تھا کہ تیزرفتار تبدیلیوں کے موجودہ دور میں سامنے آنے والے چیلنجز کے چین اور امریکا کو مشترکہ طور پر جوابات دینے چاہئیں۔

چینی صدر نے اس توقع کااظہار کیا کہ 2026 "تاریخی سال" ہو گا جو چین اور امریکا کے درمیان تعلقات کے نئے باب کا آغاز کرے گا۔ صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امر یکا کےمشترکہ مفادات ان کے درمیان پانے جانے والے اختلافات سے زیادہ ہیں ، دونوں میں سے کسی ایک ملک کی کامیابی دوسرے کے لئے موقع ہے اور تعلقات کی یہ نوعیت پوری دنیا کے لئے اچھی ہے ، دونوں کو ایک دوسرے کی کامیابی اور خوشحالی میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے اور بڑے ممالک کے لیے نئے دور میں ایک دوسرے کے ساتھ اچھے طریقے سے چلنے کا صحیح راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میں چین ، امریکا اور دنیا کے لیے اہم مسائل پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا منتظر ہوں اور باہمی تعلقات آگے بڑھانے کے لئے آپ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہوں ۔ بی بی سی کے مطابق صدر ٹرمپ کے لیے ابتدائی کلمات میں شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ کیا چین اور امریکا مل کر عالمی چیلنجز کا مقابلہ اور دنیا کے لیے زیادہ استحکام فراہم کر سکتے ہیں، کیا ہم اپنی دنیا، دونوں ممالک کے شہریوں اور انسانیت کے مستقبل کے لیے باہمی تعلقات پر مبنی روشن مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں، یہ وہ سوالات ہیں جو تاریخ، دنیا اور عوام کے لیے نہایت اہم ہیں اور ان کا جواب بڑی طاقتوں کے رہنماؤں کی حیثیت سے مجھے اور آپ کو دینا ہے۔

چینی صدر نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کو آزادی کی 250 ویں سالگرہ پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے جبکہ محاذ آرائی سے نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے اور کامیابی و خوشحالی کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔چینی صدر نے امید ظاہر کی کہ وہ امریکی ہم منصب کے ساتھ مل کر چین اور امریکا کے تعلقات کو بہتر سمت دے سکیں گے۔

ابتدائی کلمات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ ملاقات ان کے لیے اعزازہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہمارے تعلقات اچھے رہے ہیں اور جب مسائل پیش آئے تو ہم نے انھیں حل کر لیا، میں آپ کو فون کر لیا کرتا تھا اور آپ مجھے فون کر لیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ ہمیں جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا تھا ہم بہت جلد اسے حل کر لیتے تھے۔

چینی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سب سے کہتا ہوں کہ آپ عظیم رہنما ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ وہ چین کے اس دورے میں دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں کو اپنے ساتھ لائے ہیں اور آج یہاں صرف چوٹی کے لوگ ہی آپ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے موجود ہیں۔ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ساتھ ہونا اعزاز ہے، آپ کا دوست ہونا بھی اعزاز ہے اور امریکا اور چین کے تعلقات پہلے سے کہیں بہتر ہوں گے۔ جمعرات کو دونوں ممالک کے صدور کی ملاقات سے پہلے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے گزشتہ روز جنوبی کوریا میں چین کے نائب وزیر اعظم ہی لی فنگ سے ملاقات کی تھی۔